پریسین ایگریکلچر کی ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیاجاسکتاہے،ماہرین زراعت

پیر مئی 23:23

فیصل آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) زرعی ماہرین نے کہاہے کہ پریسین ایگریکلچر کی ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیاجاسکتاہے جبکہ بدلتے ہوئے موسم اور آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ خوراک کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کیلئے سائنسدانوں کو کم سے کم وسائل بروئے کارلاتے ہوئے پریسین ایگریکلچر کا ایسا مر بوط نظام چھوٹے کاشتکاروں تک پہنچانا ہو گا جس پر عمل کرتے ہوئے ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ذریعے پیدا وار میں اضافہ کیا جا سکے ۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ایسا ملک ہے جس میں زرعی پیدا وار کا سب سے زیادہ حجم حاصل کیا جا سکتا ہے مگر آج تک یہاں ٹیکنالوجی کی منتقلی عام کسان تک یقینی نہیں بنائی جا سکی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ملک میں صرف گندم کی کاشت کیلئے ڈیڈ لائن مقرر کرنے اور 100 فیصد ڈرل کے ذریعے بیج کاشت کرنے کے عمل سے پیدا واریت میں خاطر خواہ اضافہ کر لیا گیا ہے مگر ہمارے ہاں آج بھی چھٹے کے ذریعے کاشت کا پرانا نظام جاری ہے جس کی وجہ سے پودوں کی مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہو سکتی جوکہ پیدا وار میں کمی کا باعث بنتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں پریسین ایگریکلچر کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کو کھاد ‘ بیج اور دیگر زرعی مداخل کی مقدار پودوں کی ضرورت کے مطابق دینے سے نہ صرف فصلات کی پیدا وار کو دو گنا کیا جا سکتا ہے بلکہ فوڈ سکیورٹی بھی یقینی بنائی جا سکتی ہے ۔

متعلقہ عنوان :