لاہورہائیکورٹ ، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور سحری و افطاری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کیلئے دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین سے جواب طلب

بدھ مئی 20:00

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) لاہورہائیکورٹ نے بجلی کی ٹرپنگ، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور سحری و افطاری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لئے دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مامون رشید شیخ نے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے پانچ سالوں میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا مگر لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی بجائے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

رمضان المبارک کے باوجود لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہورہی جس کی وجہ سے روزہ داروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، حکومت نے ڈیموں سے پانی پہلے ہی استعمال کر لیا جس کی وجہ سے بجلی سپلائی کا نظام بار بار ٹرپ کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ نو سو ارب روپے کے گردشی قرضوں کی وجہ سے تھرمل پاور ہائوسز بند پڑے ہیں جس سے بجلی کا شارٹ فال بڑھتا جا رہا ہے۔غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کر کے واپڈا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہیں،جس پر عدالت نے وفاقی حکومت اور دیگر فریقین سے 12 جون کوجواب طلب کر لیا۔