ہراسگی کے واقعات سے نمٹنے کا بل بہت دیر سے آیا: سعودی باشندوں کی رائے

معاشرے میں صنفی مساوات اور تحفظِ نسواں قائم رکھنے کے لیے یہ قانون ناگزیر ہے

muhammad ali محمد علی بدھ مئی 19:20

ہراسگی کے واقعات سے نمٹنے کا بل بہت دیر سے آیا: سعودی باشندوں کی رائے
جدّہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 30 مئی 2018ء) سعودی شُوریٰ کونسل نے گزشتہ سوموار کو جنسی ہراسگی کے مُرتکب ہونے والوں کے خلاف بِل کا مسودہ منظور کر لیا ہے۔یوں جنسی ہراسگی کو جُرم کا درجہ دینے کے لیے سعودی عرب کی طرف سے بڑی پیش قدمی کی گئی ہے۔ اس جُرم کا ارتکاب کرنے والوں کو پانچ سال تک قید اور تین لاکھ سعودی ریال جُرمانے کی سزا سُنائی جا سکے گی۔

تفصیلات کے مطابق سوموار کے روز سعودی شُوریٰ کونسل نے ہراسگی کے انسداد کے مجوزہ بل کی منظوری دے دی جس سے یہ بل اب قانون کی صورت اختیار کر گیا ہے۔بل کے مطابق پہلی بار ہراسگی کا مرتکب ہونے والوں کے لیے دو سال تک قید اور ایک لاکھ سعودی ریال جُرمانے کی سزا ہو گی‘ مگرایک سے زائد بار ہراسگی کے جُرم کے مُرتکب شخص کو پانچ سال قید اور تین لاکھ سعودی ریال جُرمانہ کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

(جاری ہے)

سعودی باشندوں نے انسدادِ ہراسگی قانون کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ قانون اس وقت وجود میں آیا ہے جب ریاست میں کئی انقلابی تبدیلیاں رُونما ہو رہی ہیں۔ خواتین پر سے ڈرائیونگ کی پابندی جُون 2018ء میں ختم کی جا رہی ہے اور اُنہیں کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کی اجازت بھی دی جا چکی ہے۔ نُورا الرفاعی‘ ایک 26 سالہ سعودی خاتون نے مقامی اخبار کو بتایا ”میری ماں ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اچانک اُس نے چِلّاتے ہوئے مجھے اور میری چھوٹی بہن کو بُلایا کہ ہم آ کر اُس کی ساتھ ٹی وی دیکھیں۔

اُن کا خیال ہے کہ معاشرے میں صنفی مساوات اور تحفظ نسواں کو قائم رکھنے کے لیے یہ قانون ناگزیر ہے۔ اسے بہت پہلے نافذ ہو جانا چاہیے تھا۔ترقی یافتہ ممالک میں ہراسگی کوبہت سنجیدہ معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کوقرار واقعی سزا دی جانی چاہیے‘ اور لوگوں کو ایک حد سے آگے بڑھنے اور سوسائٹی کا امن چین خطرے میں ڈالنے سے باز رکھنا چاہیے۔

“سعودی فنکار امانی الغوریبی اُس وقت اپنے والدین کے ساتھ کار میں تھی جب اُس نے یہ خبر سُنی۔ اُس کا کہنا ہے ” اُنہوں (والدین) نے جیسے ہذیانی کیفیت میں یہ کہہ کر مجھے جیسے ڈرا ہی دیا کہ یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔میں گویا جیسے صدمے میں تھی۔ مجھے اُمید نہیں تھی کہ یوں اچانک ہراسگی سے نمٹنے کا قانون وجود میں آ جائے گا۔ میں شُوریٰ کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔

اور ڈرائیونگ کرتے وقت بہت پُرسکون محسوس کر رہی ہوں کہ اس طرح کے قانون ہمارے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔“الغوریبی کے والد‘ محمد کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ قانون بہت پہلے نافذ ہو جانا چاہیے تھا مگر اب بھی یہ بہتر وقت پر آ رہا ہے کیونکہ خواتین کو 28 جُون سے ڈرائیونگ کی اجازت مِل رہی ہے۔ اس سے انہیں ڈرائیونگ کے دوران ایک تحفظ کا احساس ہو گا۔

الغوریبی کی والدہ نیجوہ کنایت جو کہ جدہ یونیورسٹی میں انسٹرکٹر ہیں‘ وہ اس قانون کی منظوری پر حد سے زیادہ خوش دکھائی دے رہی تھیں۔ ”میں اس بات کو سراہتی ہوں کہ یہ قانون ہراسگی کے حقیقی واقعات اوراس حوالے سے لگائے جانے والے غلط الزامات دونوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے بہترین ہے۔“ ایک سعودی تعلیمی ادارے سے وابستہ ڈاکٹر مالک الحُسینی نے اپنے ٹویٹ میں یوں اظہار کیا: ”یہ بندشیں اور سزائیں ہراسگی کے مُرتکب افراد کو خوف میں مبتلا کر دیں گی اور اُنہیں اپنا آپ سُدھارنے پر مجبور کریں گی۔ آپ ((سعودی حکومت) کا ان قوانین کے متعارف کروانے پر بہت شکریہ۔“