حج کے لیے بارہ ہزار الیکٹرک گاڑیاں اورو ہیل چیئرز فراہم کی جائیں گی

یہ سہولت خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی زیارت کو آنے والوں کو فراہم کی جائے گی

Umer Jamshaid عمر جمشید ہفتہ جون 15:43

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 2جُون 2018ء) سعودی عرب مسلمانوں کے لیے بہت مقدس مقام ہے۔ یہاں پر مسلم اُمّہ کی عقیدت کے مظہر بہت سے مقامات ہیں جن کا دیدار کرنا ہر مسلمان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے۔ سعودی حکام بھی حاجیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے پُرعزم نظر آتے ہیں اور ہر سال حاجیوں کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے موقع پر بتدریج سہولتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

گزشتہ سالوں کے دوران حاجیوں کو بہم سہولت پہنچانے کے حوالے سے انقلابی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں اور حج کے خواہش مندوں کی بڑی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے حاجیوں کے کوٹے میں اضافے کر دیا گیا ہے۔ حال ہی میں حرمین شریفین ((خانہ کعبہ اور مسجد نبوی) کی انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ حج کے موقع پر آنے والے زائرین کو سہولت پہنچانے کی غرض سے بارہ ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں اور وہیل چیئرز مہیا کی جائیں گی۔

(جاری ہے)

یہ سہولت بوڑھے‘ بیمار اور خصوصی ضرورت والے حاجیوں کو بلامعاوضہ دی جائے گی تاکہ وہ حج کے مناسک کسی پریشانی اور تکلیف کے بغیر ادا کر سکیں۔ انتظامیہ اس امر کی بھی نگرانی کرے گی کہ وہیل چیئرز چلانے والے افراد ضرورت مندوں کا استحصال نہ کریں‘ نہ ہی گٹھ جوڑ سے کسی تندرست اور غیر مستحق فرد کو یہ سہولت مہیا کی جائے اور کسی قسم کی اضافی رقم بھی وصول نہ کی جائے۔

انتظامیہ اس امر کو بھی یقینی بنائے گی کہ وہیل چیئرز چلانے والے ملازمین کے پاس متعلقہ اجازت نامہ موجود ہے اور وہ مقرر کردہ اصول و ضوابط کے مطابق اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے خواتین کو الیکٹرک گاڑیوں میں لے جانے کے لیے خاتون ڈرائیورز کی ہی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ خواتین سواری کے دوران کسی قسم کی جھجک اور شرم محسوس نہ کریں۔

یہ حج کی تاریخ کا پہلا موقعہ ہے جب انتظامیہ کی جانب سے بوڑھے‘ بیمار اور خاص ضرورت والے حاجیوں کے لیے اس طرح کی پُرآسائش سہولت مہیا کی جا رہی ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کو چلانے کے لیے ڈرائیوز کی سہولت بھی دی گئی ہے تاکہ کمزور صحت والے اور عمر رسیدہ حاجی مرد و خواتین اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کریں۔ مُسلم اُمّہ کی جانب سے حج انتظامیہ اور سعودی حکام کی اس خصوص کاوش کو بہت سراہا جا رہا ہے۔