ْچیف جسٹس نے زیادتی کے بعد قتل ہونے والی زینب پربغیر اجازت فلم بنانے سے متعلق نوٹس لے لیا

ایسی فلمیں نہیں بننی چاہیے ‘ جسٹس ثاقب نثار نے پیمرا کے کردار سے متعلق بھی رپورٹ طلب کر لی

اتوار جون 16:40

ْچیف جسٹس نے زیادتی کے بعد قتل ہونے والی زینب پربغیر اجازت فلم بنانے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاںثاقب نثار نے قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 7سالہ زینب پربغیر اجازت فلم بنانے سے متعلق نوٹس لے لیا۔ننھی زنیب کے والد حاجی امین انصاری نے درخواست میں استدعا کرتے ہوئے کہاکہ میری بیٹی کی زندگی پر فیملی کی اجازت کے بغیر فلم بنائی جا رہی ہے، مقامی ٹی وی چینل فلم بنارہا ہے اس کو سے روکا جائے اور بغیر اجازت فلم بنانے پر ٹی وی چینل کے مالک کے خلاف کارروائی کی جائے۔

(جاری ہے)

حاجی امین کی درخواست پر عدالت نے وفاق اور صوبے کے وکیل سے رپورٹ طلب کر لی جبکہ چیف جسٹس نے کہاکہ پیمرا کا اس معاملے میں کیا کردار ہے اس کی بھی رپورٹ دی جائے۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی فلمیں نہیں بننی چاہیے۔۔پنجاب کے علاقے قصور کی رہائشی ننھی زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقع نے پورے پاکستان کو ہلاکررکھ دیاتھا۔ اس دلسوز واقع پر نجی ٹی وی چینل نے ٹیلی فلم زینب کے قاتل بنانے کا اعلان کیاتھا۔ فلم میں زینب کے مجرم عمران کا کردار سہیل سمیر اور زینب کا مرکزی کردار ننھی اداکارہ حمنہ عامر ادا کررہی ہیں۔ جبکہ دیگر کاسٹ میں صبا فیصل اور عرفان کھوسٹ شامل ہیں۔ فلم کی کہانی معروف ڈرامہ نویس عمیرہ احمد نے تحریر کی ہے۔