معاشرے اور ملک میں حقیقی تبدیلی کے لئے علم وادب سے رشتہ مضبوط بنانا ہوگا۔ عرفان صدیقی

اطمینان ہے مختصر وقت میں علمی وادبی ادارے فعال ،مالی لحاظ سے کافی حد تک خودکفیل ہوچکے ہیں،وزیراعظم کے سابق مشیر عرفان صدیقی کا پروفیسرقیصرہ علوی کی جانب سے تقریب پزیرائی سے خطاب فتح محمد ملک، ڈاکٹر انعام الحق، ڈاکٹر جمال ناصر، مسعود مفتی،، ڈاکٹر قاسم بھگیو، محبوب ظفر ، اختروقار عظیم ، گوہر زاہد ملک دیگر کا عرفان صدیقی کو خراج تحسینن

اتوار جون 22:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) وزیراعظم کے سابق مشیر برائے قومی تاریخ وادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ معاشرے اور ملک میں حقیقی تبدیلی کے لئے علم وادب سے رشتہ مضبوط بنانا ہوگا۔ اطمینان ہے کہ مختصر وقت میں علمی وادبی ادارے فعال ہوچکے ہیں اور مالی لحاظ سے بھی کافی حد تک خودکفیل ہوچکے ہیں۔ ان خیالات کااظہا رانہوں نے ممتاز ماہرتعلیم، دانشور اور سماجی شخصیت پروفیسر قیصرہ علوی کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔

عرفان صدیقی نے کہاکہ حکومتی ذمہ داری ایک چیلنج تھی۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس عرصہ کے دوران ملک کے علمی وادبی اداروں کی خدمت میرے حصے میں آئی۔ مختصر مدت کے دوران ان اداروں میں زندگی کی ایک نئی روح پھونکی گئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ بارہ علمی وادبی اداروں کے لئے واضح اہداف طے کردئیے ہیں، ایک اچھی ٹیم مہیاکردی ہے اور وسائل کی فراہمی کا بندوبست کردیاہے جس کے بعددرست سمیت میں یہ سفر جاری رہا تو بہت جلد علمی وادبی محاذ پر ایک نمایاں بہتری دکھائی دے گی۔

انہوں نے پروفیسرقیصرہ علوی کی جانب سے پزیرائی پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ علمی وادبی حلقوں کی جانب سے ان کی کاوشوں کا اعتراف ان کے اور ان کی ٹیم کے لئے باعث حوصلہ افزائی ہے۔ اس موقع پر پروفیسرقیصرہ علوی، ممتاز دانشور فتح محمد ملک، نیشنل بٴْک فا?نڈیشن کے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید،ممتاز سیاسی وسماجی شخصیت ڈاکٹر جمال ناصر، ممتاز ادیب اور دانشور مسعود مفتی، سابق چئیرمین اکادمی ادبیات پروفیسر ڈاکٹر قاسم بھگیو، محبوب ظفر ،ممتاز براڈکاسٹر اختروقار عظیم ، ممتاز صحافی گوہر زاہد ملک اور دیگر نے عرفان صدیقی کی علمی وادبی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ انہوں نے مختصر وقت میں نہایت مستعدی اور قومی جذبے کے ساتھ علم وادب کے اداروں میں نئی توانائیاں بھر دی ہیں۔

یہ ایک قومی خدمت ہے جس کے لئے وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ تقریب میں ملک کی ممتاز علمی وادبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ن 6-18/--281