سموک بم سے متاثرہ چاروں بچے زندگی کی بازی ہار گئے، لواحقین کی جانب سے سراپا احتجاج بن گئے

پیر جون 20:50

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) سموک بم سے متاثرہ چاروں بچے زندگی کی بازی ہار گئے، لواحقین کی جانب سے سراپا احتجاج بن گئے۔ اس ضمن میں تھانہ نواں شہر کے ایس ایچ او غفور خان نے صحافیوں کو بتایاکہ نواں شہر کے نواحی علاقہ میرا مندروچھ میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے تربیت کی غرض سے گولہ و بارود استعمال کیا تاہم واپسی پر ان سے ایک سموک بم موقع پر غلطی سے رہ گیا۔

ہفتہ کو نواں شہر کے ایک نجی سکول کے چار بچے تیسری کلاس کے خیبر علی ولد محمد وحید، تیمور ولد حنیف اور پانچویں کلاس کا عبدالله ولد محمد زاہد اور اس کا بھائی سیف الله ولد محمد زاہد جو دوسری کلاس کا طالب علم ہے، سکول سے واپسی پر فائرنگ رینج سے گذرے جہاں ان کو سموک بم پڑا ہوا ملا۔ چاروں بچے اس کے ساتھ کھیلنے لگ گئے اور کھیلنے کے دوران سموک بم پھٹ گیا جس کے نتیجہ میں چاروں بچے بری طرح جھلس گئے جنہیں مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایوب ٹیچنگ ہسپتال پہنچایا۔

(جاری ہے)

مقامی ذرائع کے مطابق سیف الله جو بہت زیادہ جھلس گیا تھا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں دم توڑ گیا جبکہ دوسری جانب مقامی میڈیا کی خبروں کا سخت پاک فوج کے اعلیٰ حکام نے سخت نوٹس لیتے ہوئے جھلسنے والے تین بچوں کو فوری طور پر کھاریاں کے برن یونٹ میں منتقل کیا جہاں اتوار کے روز خیبر علی جبکہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سیف الله کا بھائی عبدالله اور تیمور ولد حنیف بھی موت کے منہ میں چلے گئے۔

جاں بحق ہونے والے بچوں کی نمازجنازہ ٹائون شپ نواں شہر میں ادا کی گئی جس میں مقامی لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے انصاف اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں نے عسکری حکام سے متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد کا بھی مطالبہ کیا ہے۔