رمضان المبارک کا آخری عشرہ قریب آتے ہی بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھ گیا

مہنگائی کا جن بے قابو ہونے کی وجہ سے غریب محنت کش اور کم آمدنی والے طبقہ کو بچوں کیلئے کپڑے ،جوتے اور عید کی خریداری میں پریشانی کا سامنا

پیر جون 22:48

حافظ آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) رمضان المبارک کا آخری عشرہ قریب آتے ہی بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھ گیا جبکہ دکانداروں نے بھی اپنے ریٹ بڑھا دیے، ایک سو روپے قیمت والی چیز دو سو سے تین سو روپے تک فروخت ہونے لگی، کم آمدنی والے اور غریب محنت کش طبقہ پریشان، بچوں کیلئے معمولی خوشیاں خریدنے میں بھی ناکام ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق عید الفطر قریب آتے ہی بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھ گیا ہے جس کا فائدہ اٴْٹھاتے ہوئے دکانداروں نے بھی مختلف اشیائ کی قیمتیں ڈبل کر دی ہیں، مہنگائی کا جن بے قابو ہونے کی وجہ سے غریب محنت کش اور کم آمدنی والے طبقہ کو بچوں کیلئے کپڑے ،جوتے وغیرہ خریدنے میں پریشانی کا سامنا ہے۔

ایک ہفتہ قبل جس چیز کی قیمت ایک سو روپے وصول کی جارہی تھی اب وہ دو سے تین سو روپے تک بیچی جارہی ہے اور دکانداروں کے پاس گاہکوں کا احتجاج سننے کا وقت بھی نہیں ، اگر خریدار قیمت کم کرنے کا کہے تو دکاندار اسے دکان سے فوراً باہر جانے کا کہہ دیتے ہیں اور اکثر غریب لوگ بغیر خریداری کیے روتے ہوئے بچوں کو گھسیٹ کر واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

شہریوں کا خیال ہے کہ اگلے ہفتے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔اٴْنہوں نے انتظامیہ کے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ عام استعمال کی چیزوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ کپڑوں ، جوتوں اور دیگر سامان کی قیمتوں کو بھی چیک کیا جائے تاکہ عید الفطر کے موقع پر عام آدمی بھی اپنے بچوں کو عید کی حقیقی خوشیاں دے سکے۔