ایف بی آر نے 11 ماہ کے دوران 3,274 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں، جاری مالی سال کے لئے ٹیکس وصولیوں کا نظر ثانی شدہ ہدف 3,935 ارب روپے مقرر

بدھ جون 10:00

ایف بی آر نے 11 ماہ کے دوران 3,274 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں، جاری مالی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) رواں مالی سال 2017-18ء کے پہلے گیارہ مہینوں میں جولائی تا مئی کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو ((ایف بی آر)) نے 3274 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی ہیں جبکہ جاری مالی سال کے لئے ایف بی آر کے لئے ٹیکس وصولیوں کا نظر ثانی شدہ ہدف 3935 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے حکام نے کہا ہے کہ جاری مالی سال کے آخری ماہ جون کے دوران ایف بی آر کو ہدف کے حصول 661 ارب روپے کے ٹیکسز اکٹھے کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا پانچ سالہ دور اقتدار 31 مئی 2018ء کو مکمل ہوگیا تھا جس کے باعث سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ نگران حکومت پر چھوڑ دیا تھا ایف بی آر حکام نے کہا کہ جون 2018ء کے دوران پٹرولیم مصنوعات پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کے حوالے سے ایس آر او جاری کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں پٹرول پر سیلز ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے 7فیصد ‘ ہائی سپیڈ ڈیزل پر 25 فیصد سے 17 فیصد ‘ مئی کے تیل پر 12 فیصد سے 7 فیصد اور لائٹ ڈیزل پر 11.5 فیصد سے ایک فیصد تک کم کرنے کے فیصلہ سے ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں تقریباً 20 ارب روپے کی کمی متوقع ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولیوں کے نظر ثانی ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کررہا ہے۔