پانی کے ضیاع و مٹی کے کٹائو کو روکنے کیلئے کاشتکاروں کونیم کے درخت لگانے کی ہدایت

بدھ جون 14:37

فیصل آباد۔6 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو نیم کی زیادہ سے زیادہ کاشت کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نیم کا کرشماتی درخت عطیہ خداوندی ، کئی جراثیموں کیخلاف ڈھال ، زمینی مٹی کی صلاحیت بڑھانے ، پانی کے ضیاع کو روکنے کا اہم ذریعہ ہے جس کی کاشت سے بے پناہ فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں ، ایک ملاقات کے دوران انہوںنے بتایا کہ نیم کا درخت زمینی مٹی کی صلاحیت بڑھاتا ہے اور پانی کے ضیاع و مٹی کے کٹائو کوبھی روکتا ہے ، نیم کے درخت کا ہر حصہ بیج ، پھل ، تیل،، چھال ، جڑ بطور دافع عفونت اور دافع جراثیم کے طور پر استعمال ہوتا ہے ، نیم کے درخت سے کشید کردہ اجزاء بول ، دست، پیچش،کھانسی، جلدی امراض ، بگڑے ہوئے زخم ، اعصابی تنائو، انواع واقسام کی سوزشوں سمیت بہت سارے امراض میں بیحد مفید ہے،نیم کے پتوں سے کشید کردہ اجزاء ملیریا کے علاج میں نہائت سود مند پائے گئے ہیں یہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کر کے ، دل کی شریانوںکی تنگی جو دل کے دورہ کا باعث بنتی ہے کو دور کرتے ہیں ۔

متعلقہ عنوان :