حمد بن جاسم مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں ، سعودی مشیر

قطری وزیرخارجہ جھوٹ سے کام لیتے ہوئے ہمدردیاں سمیٹنا چاہتے ہیں،سعودالقحطانی

بدھ جون 17:29

ریاضض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) سعودی رائل کورٹ کے مشیر سعود القحطانی کی جانب سے قطر کے سابق وزیر خارجہ حمد بن جاسم بن جبر کے اٴْس بیان کا جواب سامنے آیا ہے جس میں حمد نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک کو خلیجی ممالک کے بحران اور خلیج تعاون کونسل کو نقصان پہنچانے کا ذمّے دار ٹھہرانے کی کوشش کی تھی۔عرب تی وی اپنی ٹوئیٹس میں القحطانی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر خارجہ "خلیج تعاون کونسل پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔

ان کا دعوی ہے کہ ہم کونسل کے نظام کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ احمقانہ بات وہ کونسل کے نصف سے زیادہ ممالک کو بول رہے ہیں جنہوں نے قطر کا بائیکاٹ کیا ! میں پوچھتا ہوں کہ خلیجی ممالک کی صفوں کی یہ نام نہاد وحدت اٴْس وقت کہاں تھی جب قطر 21 برس تک مہلک سرطان کا کردار ادا کرتا رہا۔

(جاری ہے)

دوحہ کی پالیسی کے خلاف شواہد سے متعلق سابق قطری وزیر خارجہ کے استفسار کا جواب دیتے ہوئے القحطانی نے کہا کہ وہ پوچھتے ہیں کہ دوحہ حکام کے خلاف شواہد کہاں ہیں یہ اس بحران کی برکت ہے کہ الجزیرہ چینل اور دیگر میڈیا حکام کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن گیا۔

سعودی مشیر نے جاسم بن حمد کے اس بیان کو جھوٹ قرار دیا کہ سعودی عرب کے بعض قوانین ہمیں قطر کے عوام کے ساتھ ہمدردی سے روکتے ہیں۔ یاد رکھیے ہر سعودی ، خلیجی اور مسلمان قطری عوام کے لیے خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں۔ قطریوں کے سعودی عرب میں اپنے گھر والوں اور رشتے داروں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ تو پھر مذکورہ قوانین کہاں ہیں۔