سپریم کورٹ پشاوررجسٹری میں بجلی لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت

پیسکو چیف محمد امجد عدالت میں پیش ہوئے، اورموقف اختیارکیا کہ ہمارا انفراسٹرکچر کمزور ہے جو مزید بجلی بنا نہیں سکتا پیداوار اکیس سو میگاواٹ ہے اور ڈیمانڈ تین ہزار میگاواٹ ہے چیف جسٹس نے وزرات پانی و بجلی سمیت پیسکو چیف کو کل اسلام آباد طلب کرنے کاحکم دیدیا

بدھ جون 21:58

سپریم کورٹ پشاوررجسٹری میں بجلی لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پشاور رجسٹری میں بجلی لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، پیسکو چیف محمد امجد عدالت میں پیش ہوئے،اورموقف اختیارکیا کہ ہمارا انفراسٹرکچر کمزور ہے جو مزید بجلی بنا نہیں سکتا پیداوار اکیس سو میگاواٹ ہے اور ڈیمانڈ تین ہزار میگاواٹ ہے ۔۔چیف جسٹس نے وزرات پانی و بجلی سمیت پیسکو چیف کو کل اسلام آباد طلب کرنے کے احکاما ت جاری کردیئے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پشاور رجسٹری میںپشاور میں بجلی کی لو ڈ شیڈنگ کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی، پیسکو چیف محمد امجد عدالت میں پیش ہوئے چیف جسٹس نے پیسکو چیف سے استفسار کیالوگوں کو رمضان میں جو بجلی ملنی چاہئے وہ نہیں مل رہی چیف پیسکو کا کہنا تھا کہ ان کا انفراسٹرکچر کمزور ہے جو مزید بجلی بنا نہیں سکتا پیداوار اکیس سو میگاواٹ ہے لیکن ڈیمانڈ تین ہزار ہے، پیسکو چیف کا کہنا تھا ان کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ ہم انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں ،،چیف جسٹس کا کہنا تھا مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں مجھے یہ بتائے لوگوں کو بجلی کب ملے گی، چیف جسٹس نے پیسکو چیف کو کل رپورٹ کے ساتھ اسلام آباد پیش ہونے کا حکم دیا۔