مہاجرین کی کشتی ڈوبنے پر تیونس کے وزیر داخلہ کئی عہدیداروں سمیت مستعفی

ساحلی شہر قرقنہ کے سیکیورٹی چیف ،قرقنہ کے سیکیورٹی گائیڈ، پولیس چیف اور صقاقس شہر کے سیکیورٹی چیف برطرف

جمعرات جون 13:28

تیونس سٹی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) افریقی تیونس میں تین روز قبل ساحل سمندر کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے پر تیونس کے وزیر داخلہ کو قصور وار قرار دیتے ہوئے ان سے استعفیٰ لے لیا گیا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق تیونس کے وزیراعظم یوسف الشاھد نے وزیر داخلہ لطفی ابراہیم کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ لطفی ابراہیم نے 10 دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ تیونس کے ساحل پر مہاجرین کی کشتی ڈوبنے پر اپنے عہدوں استعفیٰ پیش کیا۔

(جاری ہے)

ادھر تیونس میں وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ساحلی شہر قرقنہ کے سیکیورٹی چیف کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ کشتی ڈوبنے کے واقعے پر کئی دوسرے عہدیداروں نے بھی استعفے دے دیے ۔ ان میں قرقنہ کے سیکیورٹی گائیڈ، پولیس چیف اور صقاقس شہر کے سیکیورٹی چیف بھی برطرف کردیے گئے ۔خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کو تیونس کے ساحلی شہر میں تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوب گئی تھی جس میں سوار 63 مہاجرین ہلاک ہوگئے تھے۔ تیونسی وزیر داخلہ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی قائم کی ہے تاہم عوام اور سیاسی حلقوں کی طرف سے وزیر داخلہ اور دیگر ذمہ داروں کو برطرف کرنے کا مطالبہ بھی شدت اختیار کرگیا تھا۔