شارجہ: سڑک کنارے ہونے والے جھگڑے میں امارتی نوجوان کا ہاتھ کاٹ دیا گیا

بارہ نوجوانوں کو گروپ فائٹ پر حراست میں لے لیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جون 18:10

دُبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 7 جُون 2018ء) شارجہ کی مقامی عدالت میں کم سن لڑکوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں ایک کم سن لڑکے کا ہاتھ تلوار سے کاٹنے کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ استغاثہ کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2018ء میں الخزیمہ پارک کے قریب سڑک کنارے امارتی اور دیگر عرب قومیتوں سے تعلق رکھنے والے دو گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا ۔ اس جھگڑے میں تلواروں کا استعمال کیا گیا۔

اس جھگڑے میں حصّہ لینے والے تمام افراد کی عمریں 16 سال سے کم تھیں۔ متاثرہ لڑکے کے وکیل کے مطابق اُس کا کلائنٹ جھگڑے میں ملوث نہیں تھا بلکہ وہ خود کو تلوار کے وار سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا جس دوران اُس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا۔ جس وقت تلوار نے اُس کا ہاتھ کاٹا‘ وہ ہاتھ چہرے پر موجود تھا۔

(جاری ہے)

جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزم نے جھگڑے میں جارحانہ طرزِ عمل نہیں اپنایا۔

بلکہ اپنا دفاع کرنے میں لگا رہا۔ وکیل کے مطابق حملہ آور متاثرہ فرد کے کٹے ہوئے ہاتھ سے ہی اُس کو مارتے رہے۔سرکاری استغاثہ نے تلوار لانے والے دو ملزموں‘ تلوار سے مُدعی کا ہاتھ کاٹنے والے اور خود متاثرہ شخص پر جھگڑے کا الزام عائد کیا ہے۔ جب متاثرہ لڑکے کا ہاتھ کٹ کر علیحدہ ہویا تو اُس کے دو ساتھی اُسے اس کٹے ہوئے ہاتھ کے ہمراہ رشید ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹرز نے سرجری کے ذریعے متاثرہ لڑکے کا ہاتھ کٹی ہوئی جگہ سے دوبارہ جوڑ دیا۔

پولیس نے اس خوفناک واقعے کے سامنے آنے پر دونوں گروپوں میں شامل بارہ کم سن لڑکوں کے خلاف مقدمہ درج کر دیا تھا۔ جج نے گواہوں کے بیانات سُننے کے بعدوکیل صفائی کا موقف سُننے کے لیے سماعت 20 جُون 2018ء تک مُلتوی کر دی۔واضح رہے کہ اماراتی عوام کی جانب سے کم سن لڑکوں کی جانب سے اس بہیمانہ عمل کی بے حد مذمت سامنے آئی تھی۔ اور اس واقعے کے ذمے داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔