مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھاؤ میں مجموعی طورپر استحکام رہا

ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی خریداری میں عدم دلچسپی کے باعث کاروباری حجم بدستور بہت کم رہا، نسیم عثمان

اتوار جون 17:43

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھاؤ میں مجموعی طورپر استحکام رہا۔ ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی خریداری میں عدم دلچسپی کے باعث کاروباری حجم بدستور بہت کم رہا۔ جنرز کے پاس بمشکل روئی کی 70 ہزار گانٹھوں کا اسٹاک موجود ہے صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 6000 روپے تا 7500 روپے رہا جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 7500 روپے کے بھا ؤپر بند کیا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ گو کہ پانی کی شدید کمی کی شکایت کے باوجود زریں سندھ کے کپاس پیدا کرنے والے کچھ علاقوں سے جزوی طور پر پھٹی کی رسد شروع ہوگئی ہے فی الحال سندھ کی پھٹی سے صوبہ پنجاب کی دو جننگ فیکٹریوں نے جننگ شروع کردی ہے ہارون آباد کی ایک جننگ فیکٹری نے 600 گانٹھیں تیار کرلی ہیں جبکہ صوبہ سندھ کی تقریبا 7 جننگ فیکٹریوں نے پھٹی خریدنا شروع کردی ہے جس میں سے تاہم پانچ جننگ فیکٹریوں نے جزوی طور پر جننگ شروع کردی میر پور خاص کی ایک فیکٹری میں 500 گانٹھیں، سانگھڑ کی ایک فیکٹری میں 500 اور شہداد پور کی دو فیکٹریوں میں 500 گانٹھوں کی پھٹی پہنچ چکی ہے اور کوٹری کی دو جننگ فیکٹریوں نے 130-130 گانٹھیں تیار کرکے بے وارہ ہونے کی وجہ سے فیکٹریاں بند کردی۔

(جاری ہے)

تاہم پھٹی کی رسد کی نسبت جننگ فیکٹریاں زیادہ کھل جانے کی وجہ سے پھٹی کے بھاؤ میں اضافہ ہوکر فی 40 کلو 4100 روپے کی گزشتہ 8 سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ ٹیکسٹائل ملز زیادہ انچے داموں پر خریداری نہیں کر رہے جس کے با عث موجودہ بھاؤ فی من 8100 روپے پر جننگ فیکٹریاں چلانا نقصان دہ ہونے کی وجہ سے جو جننگ فیکٹریاں چل رہی تھی وہ بھی بند ہونا شروع ہوگئی ہیں! امید کی جارہی ہے کہ عید الفطر کے بعد پھٹی کی رسد میں اضافہ ہونے کی صورت میں مزید جننگ فیکٹریاں شروع ہوسکے گی لیکن صوبہ سندھ میں 15 جولائی اور صوبہ پنجاب میں اگست سے صحیح کاروبار شروع ہوسکے گا۔

صوبہ سندھ کے زیریں علاقوں سے ابھی بھی پانی کی کمی کی شکایت موصول ہورہی ہیں جس کے باعث ان علاقوں میں فصل میں تاخیر ہورہی ہے۔ تاہم صوبہ پنجاب میں جن علاقوں میں ٹیب ویلوں سے پانی آرہا ہے وہاں کپاس کی اچھی خاصی بوائی ہورہی ہے دیگر علاقوں میں بھی پانی کی دستیابی ہوتی جارہی ہے وہاں بھی بوائی حوصلہ افزا ہونے کی توقع ہے آئندہ ہفتہ میں کئی علاقوں میں پری مون سون بارشوں کا امکان بتایا جارہا ہے انشا اللہ فصلیں بہتر ہوجاینگی۔

نسیم عثمان کے مطابق بین الاقوامی کپاس منڈیوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں روئی کے بھا ؤمیں اتار چڑھا ؤکے بعد مجموعی طورپر تیزی کا عنصر غالب ہے۔ چین میں منعقد ہونے والی کاٹن کانفرنس میں بتایا گیا کہ کپاس کی آئندہ سیزن میں چین کی کپاس کی درآمد میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے جس کے باعث کپاس کی عالمی منڈیوں میں تیزی رونما ہورہی ہے۔