اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی لندن پراپرٹی کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت 20 جون تک کے لئے ملتوی کر دی

منگل جون 17:04

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لندن پراپرٹی کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت 20 جون تک کے لئے ملتوی کر دی ۔ جب سماعت شروع ہوئی تو شریف فیملی کے قانونی مشیر خواجہ حارث کی وکالت نامہ لینے کی درخواست پر بنچ میں شامل فاضل جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا نواز شریف خود عدالت آئیں گے جس پر خواجہ حارث کے جونیئر وکیل سعد ہاشمی خاموش رہے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف احتساب عدالت کے حتمی دلائل موخر کرنے کے حوالے سے درخواست پر سماعت کی ۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل فاضل بنچ نے سماعت کی ۔ جب سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ان کے قانونی مشیر خواجہ حارث عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ ان کے جونیئر وکیل کی جانب سے عدالت عالیہ اسلام آباد سے وکالت نامہ واپس لینے کی استدعا کی جس پر نیب پراسکیوٹر سردار مظفر نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا حکم نامہ ملنے سے پہلے ہی وکالت نامہ واپس لے لیا ہے سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد درخواست تو ویسے ہی غیر موثر ہو گئی ہے نیب پراسکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو مزید بتایا کہ پراسکیوشن ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں حتمی دلائل مکمل کر چکی ہے جس پر بنچ میں شامل فاضل جسٹس عامر فاروق نے حکم دیا کہ حکم امتناعی نہ ہونے کے باعث احتساب عدالت سماعت جاری رکھے ۔

(جاری ہے)

فاضل جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا نواز شریف دلائل دینے کے لئے خود عدالت آئیں گے جس پر شریف فیملی کے قانونی مشیر خاموش رہے بعدازاں عدالت نے مزید سماعت 20 جون تک دیکھنے کے لئے ملتوی کر دی ۔ ۔