خاموشی سے بہتر ہے ذکر ودرود کیا جائے، علامہ محمد الیاس قادری

منگل جون 18:36

خاموشی سے بہتر ہے ذکر ودرود کیا جائے، علامہ محمد الیاس قادری
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) امیر اہل سنت حضرت علامہ محمدالیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا ہے کہ ایسے کام جس میں دین ودنیا کا فائدہ نہ ہو اس سے بھی اسلام نے ہمیں روکا ہے ،حسن اسلام سے ہے کہ وہ ان کاموں کو ترک کردے جن کا فائدہ نہ ہواس طرح بہت سا وقت بچ سکتاہے اور اس وقت میں ہم اللہ عزوجل کی عبادت کرسکتے ہیں ،فضول باتیں کرنے کی بجائے اللہ کا ذکر کیجئے تاکہ وقت اچھی جگہ صرف ہو،اللہ تعالیٰ سے اس کی ناراضگی اور جہنم سے پناہ مانگیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں شرکاء اعتکاف سے بیان کرتے ہوئے کیا۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ خاموش بیٹھنا بہتر نہیں کیونکہ غفلت کی خاموشی کی پذیرائی نہیں ہے اس سے بہتر ذکر اللہ ہے ،غفلت کی خاموشی سے انسان نقصان سے تو بچ سکتا ہے لیکن اگر وہ ذکر ودرود کا اہتمام کرے گا توفائدہ ہوگا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اپنی موت کو یاد کریں بوڑھا کہے کہ اس کی موت قریب ہے تو درست ہے مگر جوان کو بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کیونکہ مرنے والوں میںتعداد جوانوں کی زیادہ ہوتی ہے بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچنے سے قبل ہی لوگ موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ،نہ جانے کتنے نوجوان حادثات کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں ،ہر شخص یہ غور کرلے اس کی موت قریب ہے،ہر شخص اپنے وقت کی قدر کرے اپنے آپ کو بے کار نہ چھوڑ ے ایک ایک سانس قیمتی ہے اربوں کھربوں روپے کا چیک بھی ایک سانس لوٹا نہیں سکتا جو سانس ایک بار لے لیا وہ لے لیا دوبارہ لوٹ کر کھی نہیں آئے گا ۔

امیر اہل سنت نے کہا کہ ہر سانس موت کی طرف ایک قدم ہے ،ہم موت کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں ،عمر بڑھتی نہیں درحقیقت گھٹتی جارہی ہے لہٰذا فضول بیٹھنے سے بہتر ہے کہ ذکر ودرود کا اہتمام کریں ۔

متعلقہ عنوان :