لودھراں میں علی ترین کو بد ترین شکست دینے والے پیر اقبال شاہ نے ن لیگ کو زبردست جھٹکا دیدیا

الیکشن قریب آتے ہی بڑا اعلان کردیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ جون 11:15

لودھراں میں علی ترین کو بد ترین شکست دینے والے پیر اقبال شاہ نے ن لیگ ..
لودھراں (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 جون 2018ء) : سابق لیگی ایم پی پیر اقبال شاہ نے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر اقبال شاہ نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ لودھراں کے ضمنی انتخاب میں بھی پیر اقبال شاہ نے بھاری اکثریت سے کامیابی سمیٹی تھی۔ جس کے بعد انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

خیال رہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ جاری ہے۔ سیاسی رہنما اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں، ملک کے اس سیاسی ماحول میں اب تک سب سے زیادہ وکٹیں پی ٹی آئی نے حاصل کی ہیں۔  سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت ہوا کا رُخ عمران خان بنے ہوئے ہیں، یہ تمام وہ سیاسی رہنما ہیں جو الیکشن سے قبل ہوا کے رُخ کا تعین کرتے ہیں اور پھر اسی پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں جس کے الیکشن جیتنے کے چانسز زیادہ ہوں۔

(جاری ہے)

گذشتہ کچھ ماہ میں پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن کی کئی وکٹیں اُڑائی ہیں ۔ جس سے مسلم لیگ ن کو سخت مشکل کا سامنا ہے ،ذرائع کے مطابق پیر اقبال شاہ کا تحریک انصاف میں شمولیت کا امکان ہے۔۔جہانگیر ترین سے ملاقات کے بعد وہ کسی بھی وقت پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔۔مسلم لیگ ن کے کئی رہنما پارٹی چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں،جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو قومی و صوبائی اسمبلی کے تگڑے اُمیدوار ڈھونڈنے میں شاید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

کس کو ٹکٹ دی جائے اور اُمیدوار کہاں سے لایا جائے، یہ معاملہ مسلم لیگ ن کے لیے درد سر بن گیا ہے ۔ لاہور ، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور فیصل آباد سے بھی ن لیگ کو نئے تگڑے اُمیدوار ملنے میں دشواری کا سامنا ہے، ان شہروں میں تو ایک ایک اُمیدوار نے خانہ پُری کے لیے دو، دو اور تین تین حلقوں سے الیکشن لڑنے کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں،ایک اہم ن لیگی رہنما نے بتایا کہ ہمیں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ خود ہی مختلف لوگوں کے ناموں سے درخواستیں لکھ کر جمع کرواتے جائیں اور ٹارگٹ دیا گیا ہے کہ ہر حلقے سے کم از کم تین نام ضرور ہونے چاہئیں، ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ مسئلہ ن لیگ کے اندر گروپنگ کی وجہ سے بھی بنا ہوا ہے۔

مریم نواز نے اپنے پسندیدہ جبکہ حمزہ شہباز نے اپنی لابی کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا ہے، دونوں کسی صورت میں بھی اپنے اُمیدواروں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں، اس گروہ بندی کی وجہ سے وسطی پنجاب میں جو ان کے مضبوط اضلاع ہیں وہاں بھی سخت نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے۔