چیف جسٹس پاکستان نے وکلا کی ہائوسنگ سوسائٹی کیلئے اراضی ایکوائر کرنے کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی

جمعرات جون 17:45

چیف جسٹس پاکستان نے وکلا کی ہائوسنگ سوسائٹی کیلئے اراضی ایکوائر کرنے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان نے وکلا کی ہائوسنگ سوسائٹی کیلئے اراضی ایکوائر کرنے کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ متعلقہ حکام چھ ہفتوں میں رپورٹ پیش کریں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں کی سربراہی چار رکنی بنچ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ وکلا کی سوسائٹی کے لیے اراضی ایکوائر کرنے کا پراسیس کہاں تک پہنچا ہے۔

جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ وکلا کی سوسائٹی کے لیے اراضی ایکوائر کرنے کیلیے اقدامات جاری ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے باور کرایا کہ عدالتی حکم پر سنجیدگی سے عملدرامد نہیں کرایا جا رہا۔ چیف جسٹس پاکستان نی ہدایت کی کہ وکلا کو خوش کرنے کے لیے کسی ایسے شخص کی اراضی ایکوائر نہ کریں جو اراضی نہیں دینا چاہتا۔ یہ شکایت نہیں آنی چاہیے کہ زبردستی لوگوں کی اراضی ایکوائر کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر پیر کلیم خورشید نے بتایا کہ 5 ارب روپے ہائوسنگ سوسائٹی کے لیے جمع کرائے ہیں اور مجموعی طور اراضی کا رقبہ 8200 کنال ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ وکلا سے ناراض لگتی ہے اسی لیے ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔