ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے اس سے استفادے کی تاریخ میں توسیع کی جائے،عارف یوسف جیوا

بدھ جون 19:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد عارف یوسف جیوا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سابقہ حکومت کی متعارف کردہ ٹیکس ایمنیسٹی اسکیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اس سے استفادے کی تاریخ میں توسیع کی جائے۔انھوں نے حکومت پاکستان کو تجویز دی کہ ایمنیسٹی اسکیم انڈونیشین ماڈل پر چلانی چاہیے ۔

پاکستان کی ٹیکس ایمنیسٹی اسکیم 12 اپریل سے موثر ہوئی اور اس کی مدت 30 جون 2018 کو ختم ہورہی ہے، کچھ تحفظات کے باعث صرف چند ہزار لوگوں نے ہی اپنے اثاثے ظاہر کیے ہیں تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیکس ایمنیسٹی اسکیم کی توثیق کے بعد تمام تحفظات دور ہوگئے ہیں ،اسکیم سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کواس کی مدت کم از کم ایک سال تک بڑھانا چاہیے ،اس عمل سے پاکستان کے ٹیکس نیٹ میں بھی اضافہ ہوگا ۔

(جاری ہے)

عارف جیوا نے کہا کہ حکومت بیرون ممالک میں مقیم اوور سیزپاکستانیوں اور مقامی لوگوں کو 2 سے 5 فیصدٹیکس ادائیگی پراپنے غیر ظاہر شدہ اثاثوں اور آمدنی کو قانونی درجہ دینے پر راغب کرنے کی کوشسشیں تیز کریں۔عارف جیوا نے بتایا کہ انڈونیشین ماڈل میں ٹیکس ایمنیسٹی اسکیم کی مدت ایک برس پر محیط تھی ۔انڈونیشین ماڈل کے تحت ٹیکس ایمنیسٹی اسکیم کے اعلان کی پہلی سہہ ماہی میںغیر ظاہر دولت کو ٹیکس نیٹ میں لانے والوں سے انتہائی کم شرح سے ٹیکس وصول کیا گیا تھا،اس کے بعد انڈونیشیا کی حکومت نے مرحلہ وار ایمنیسٹی اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا اور احتتامی 3 ماہ میں اپنی دولت ٹیکس نیٹ میں لانے والوں پر سب سے زیادہ ٹیکس لاگو کیا گیا تھا۔

نگراں وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی جانب سے پریس کانفرنس میں ٹیکس ایمنیسٹی اسکیم کی مدت میں توسیع نہ کرنے کے بیان پر چیئرمین آباد نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اسکیم کو مسترد کرنے کے خدشات کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک اور عید ایام کے باعث زیادہ لوگ اسکیم سے استفادہ حاصل نہ کرسکے،اور اب 30 جون 2018 تک ڈاکو منٹیشن کرنا ہی ممکن نہیں،انھوں نے حکومت کے موجودہ ذمے داران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیکس ایمنیسٹی اسکیم کی ختمی مدت میں کم از کم 6 ماہ کی توسیع کے احکام جاری کریں تاکہ آخر میں اس اسکیم سے استفادہ کرنے والوں سے زیادہ شرح ٹیکسوںکے ساتھ قومی خزانے میں زیادہ ٹیکس وصولیاں ہوسکیں۔

انھوں نے بتایا کہ تعمیراتی صنعت میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی بڑی تعدادایمنیسٹی اسکیم سے مستفید ہونا چاہتی ہے اور اس اسکیم میں حکومتی دلچسپی کے سبب غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوسکے گا جس کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔