سپریم کورٹ نے انرجی ڈپارٹمنٹ کیلیے 524ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ روک دی،سندھ بھر میں سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ اور لیز کی تفصیلات طلب کر لی گئیں

سال سے جج ہوں سب پتہ ہے کیا کیسے ہوتا ہی, زمینوں کی لیز اور الاٹمنٹ کو شفاف بنائیں گے،چیف جسٹس آف پاکستان کے سماعت میں ریمارکس

بدھ جون 21:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سرکاری زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے کی سماعت کے موقع پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 21 سال سے جج ہوں سب پتہ ہے کیا کیسے ہوتا ہی, زمینوں کی لیز اور الاٹمنٹ کو شفاف بنائیں گی, کسی کو زمین لیز یا الاٹمنٹ کرانا ہے تو اوپن آکشن میں جائیں, آپ لوگوں کو اوپن آکشن میں جانے میں کیا مسئلہ ی, یہ سب اس وقت کے معاہدے ہیں جب بندر بانٹ ہوتی تھی, چیف جسٹس نے کہا کہ 30 سال فائدہ اٹھا لیا, اب اوپن آکشن میں جائیں, کیا 5 لاکھ روپے فی ایکڑ لیز پر تیار ہیں, دیکھنا ہوگا ان زمینوں کی موجودہ قیمت کیا ہی, عدالت نے انرجی ڈپارٹمنٹ کیلیے 524ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ روک دی،،سندھ بھر میں سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ اور لیز کی تفصیلات طلب کر لی گئیں،،عدالت نے کہا کہ شفافیت کے بغیر کسی کو زمین الاٹ نہیں ہونے دیں گے ،جس نے آکشن میں حصہ نہیں لیا اس کا کوئی حق نہیں ، سپر ہائی وے پر پولٹری فارم کیلئے چار ایکڑ زمین فی ایکڑ پانچ لاکھ روپے میں لیز دینے کی اجازت دے دی گئی،،عدالت نے چالیس سے زائد درخواستوں پر رپورٹس طلب کرلیں۔

#