سعودی عرب نے افغان حکومت اور طالبان مابین جنگ بندی کی حمایت کر دی

مختصر مدت کی جنگ بندی قابل تحسین اقدام ،فریقین جنگ بندی کو توسیع دے کر امن وآشتی کی طرف لے جانے میں باہمی تعاون کریں، تلخیوں کو فراموش، مصالحت، رواداری کی فضا قائم کر کے نئے دور کا آغاز کرنا ہوگا،سعودی فرمانروا

جمعرات جون 13:51

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے افغان حکومت اور طالبان مابین جنگ بندی کی حمایت اور خیر مقدم کیا ہے،مختصر مدت کی جنگ بندی قابل تحسین اقدام ہے،فریقین جنگ بندی کو مزید توسیع دے کر افغان عوام کو امن وآشتی کے عمل کی طرف لے جانے میں باہمی تعاون کریں گے، ماضی کی تلخیوں کو فراموش، مصالحت، رواداری، بھائی چارے کی فضا قائم کر کے نئے دور کا آغاز کرنا ہوگا۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ شاہی دیوان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مختصر مدت کی جنگ بندی قابل تحسین اقدام ہے۔

(جاری ہے)

توقع ہے کہ فریقین جنگ بندی کو مزید توسیع دے کر افغان عوام کو امن وآشتی کے عمل کی طرف لے جانے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمیں احساس ہے کہ افغان عوام کو جنگوں اور دیگر کئی مصائب نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ افغان حکومت اور طالبان کو ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرکے، مصالحت، رواداری، بھائی چارے کی فضا قائم کرنی اور ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہوگا۔ فریقین کو تشدد کا راستہ ترک کر کے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فرقہ واریت کی لعنت سے دور رہتے ہوئے نیکی، تقوی، عفو ودرگذر، اصلاح اور بھائی چارے کے فروغ دینا ہو گا۔شاہی بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت اور عوام افغانستان میں دیر پا قیام امن، استحکام ، ترقی اور خوش حالی کے خواہاں ہیں۔