سپریم کورٹ کی جانب سے عائد پابندی ختم ہونے پر ڈاکٹر شاہد مسعود کی واپسی

ڈاکٹر شاہد مسعود کس چینل پر واپس آ رہے ہیں؟ پروگرام کا پرومو جاری کر دیا گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات جون 17:27

سپریم کورٹ کی جانب سے عائد پابندی ختم ہونے پر ڈاکٹر شاہد مسعود کی واپسی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 جون 2018ء) : سپریم کورٹ کی جانب سے معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود پر عائد کی جانے والی پابندی کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد اب ڈاکٹر شاہد مسعود نے میڈیا پر واپسی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پابندی کا دورانیہ ختم ہونے پر ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام کا پرومو بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے حامی اور ان کے فالوورز ان کو دوبارہ سے ٹی وی پر دیکھنے کے لیے کافی بے چین ہیں۔

یاد رہے کہ قصور کی ننھی زینب سے جنسی زیادتی اور قتل کیس میں گرفتار مجرم عمران علی سے متعلق ڈاکٹر شاہد مسعود نے ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے انکشافات پر چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا اور ڈاکٹر شاہد مسعود کو عدالت طلب کیا لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود مجرم عمران علی پر عائد الزامات سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے۔

(جاری ہے)

جس پر ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔ سپریم کورٹ نے قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی کمسن زینب کے قاتل کے حوالے سے غلط معلومات دینے پر سینئر اینکر پر سن ڈاکٹر شاہد مسعودکی غیر مشرط معافی قبول کرلی اور ان کے ٹی وی پروگرام پر 3 ماہ کے لیے پابندی عائد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے غیرمشروط معافی مانگتے ہوئے معافی نامہ عدالت کو پیش کردیا ہے ، اس لئے ان کی معافی قبول کی جاتی ہے ، اس معاملے پر نجی ٹی وی چینل نے بھی عدالت سے غیرمشروط معافی مانگی تھی۔

اس موقع پرچیف جسٹس نے کہا کہ لگتاہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو بڑوں کی نصیحت کا احساس نہیں ،انہوں نے دوسرے روز بھی اپنے پروگرام میں میرے کورٹ آفیسر کی تضحیک کی، اس لئے ہوسکتاہے کہ شاہد مسعود کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے ،پروجیکٹر لگا کر شاہد مسعود کی ویڈیوچلا لیتے ہیں ، انہوں نے کس طرح میرے لاء آفیسرزکی تضحیک کی ا،نہو ں نے ڈاکٹر شاہد مسعود کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود کو کیا سمجھتے ہیں، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ آپ نے خود کہا تھا کہ اگر الزام جھوٹ نکلے تو مجھے پھانسی لگادی جائے ، لیکن ہم آپ کو پھانسی نہیں دیں گے اب اپنی سزا خود تجویز کریں، پہلے جو کچھ ہوتا تھا اب وہ نہیں ہو گا ، آپ کومکمل معافی کی رعایت نہیں دی جاسکتی ،اپ نے اپنے پروگرام مین قاضی کو بار بار پکارا پھر کیو ں نہ قاضی اپ کی پکار پر آئے ،،سماعت کے دورا ن شاہد مسعود کے وکیل شاہ خاور نے عدالت سے کہا کہ زینب کیس کے معاملہ میں جے آئی ٹی نے مختلف پہلووں سے تحقیقات نہیں کی ہیں۔

جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو اپنے دعوئوں پر معافی مانگنا ہو گی، وہ 6 ماہ تک پروگرام نہیں کر سکتے،، فاضل وکیل نے کہا کہ عدالت کا احترام نہایت ضروری ہے۔۔ڈاکٹر شاہد مسعود غیر مشروط معافی مانگنے کو تیار ہیں، وہ ٹاک شو میں بھی غیر مشروط معافی مانگیں گے،،چیف جسٹس نے کہاکہ بغیر سزا کے معافی نہیں ملے گی، شاہد مسعود اپنی سزا خود تجویز کریں ورنہ ہم پروگرام کرنے پرچھ ماہ کی پابندی عائد کردیں گے، جس پر ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی اورکہاکہ وہ دل کی گہرائیوں سے عدالت سے معافی چاہتے ہیں، جس پرچیف جسٹس نے ان سے کہاکہ ڈاکٹر صاحب ہم آپ کوچھے طریقے سے جانتے ہیں، میں بہت عرصے سے آپ کے دل کی گہرائیوں کو سن رہا ہوں، ہم اپنے لاآفیسرز کی تذلیل برداشت نہیں کرسکتے،معافی لکھ کر لے آئیں۔

بعد ازاں شاہد مسعود نے غیرمشروط تحریری معافی نامہ عدالت میں پیش کردیاجس میں کہا گیا تھا کہ غیرمشروط معافی مانگ کر خود کوعدلیہ کے رحم وکرم پرچھوڑتے ہیں جس پرچیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کی معافی کو قبول کرتے ہوئے 20 مارچ 2018ء کو ان کے پروگرام پرتین ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ۔ تاہم اب ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام پر عائد پابندی کا دورانیہ ختم ہو گیا جس کے بعد ان کے پروگرام کا پرومو بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا پرومو آپ بھی ملاحظہ کیجئیے: