ْخانہ جنگی کے خاتمے کے لیے یمن اوربرطانیہ کا عالمی ایلچی کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق

الحدیدہ بندرگاہ کا حوثیوں کے قبضے میں رہنا عالمی امن کے لیے خطرہ ،خاموش نہیں رہیں گے،یمنی وزیر خارجہ

ہفتہ جون 11:55

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی نے خبردارکیا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کا حوثی ملیشیا کے قبضیمیں رہنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یمنی وزیر خارجہ نے ان خیالات کا اظہار برطانیہ کے وزیر برائے امور مشرق وسطیٰ الیسٹر پیرٹ سے ٹیلفیون پر بات چیت میں کیا۔انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو الحدیدہ بندرگاہ کے راستے ایران میزائل اور اسلحہ پہنچا رہا ہے۔

اگر یہ بندرگاہ بدستور حوثیوں کے قبضے میں رہتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف پورا خطہ عدم استحکام کا شکار رہے گا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ باب المندب بندرگاہ اور بحر الاحمر میں جہاز رانی کو حوثیوں کی طرف سے لاحق خطرات پر خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔

(جاری ہے)

الیمانی نے کہا کہ یمنی حکومت نے عرب اتحاد کے ساتھ مل کر حوثی باغیوں کو الحدیدہ کا کنٹرول حکومت کے حوالے کرنے اور لڑائی سے گریز کا مشورہ دیا مگر حوثیوں کی جانب سے جواب میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا۔

حوثی باغی قومی املاک کو کوڑیوں کے بھائو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرکے اپنے جنگی اخراجات پورے کررہے ہیں۔۔یمن کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الحدیدہ میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں شاہ سلمان ریلیف مرکز، اماراتی ہلال احمر اور دیگر امدادی ادارے مسلسل امدادی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔دوسری جانب برطانوی وزیر نے یمنی وزیر خارجہ کو یقین دلایا کہ یمن میں جاری خانہ جنگی میں ان کی حکومت صدر عبد ربہ منصور ھادی کی قیادت میں قائم آئینی حکومت کے ساتھ ہے۔

الیسٹر پیرٹ کا کہنا تھا کہ ہم الحدیدہ میں جاری لڑائی کو پرامن طریقے سے ختم کرنے کے خوہاں ہیں۔ دونوں وزراء نے یمن میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا۔