قطر تنہائی سے نکلنے کے لیے اسپورٹس کا کارڈ کھیل رہا ہے ، سعودی شاہی مشیر

قطر نے سعودی عرب پر ہیکنگ کے بہت الزامات لگائے تاہم اس سلسلے میں ایک بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا،گفتگو

ہفتہ جون 15:14

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) سعودی عرب کے شاہی دفتر کے مشیر سعود القحطانی نے کہاہے کہ قطر اس وقت ہر ممکن طور پر کوشش کر رہا ہے کہ وہ دوحہ کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں عرب ممالک کے مشترکہ مطالبات سے فرار اختیار کرنے کے لیے سازگار فضا قائم کرے۔ ان مطالبات میں پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ معاندانہ برتاؤ اور دہشت گردی کے لیے سپورٹ سے دست بردار ہونا شامل ہے۔

اس مرتبہ قطر نے کھیلوں کے میدان کا سہارا لیا ہے۔ دوحہ کی جانب سے بارہا یہ الزام تراشی کی گئی کہ قطری نیٹ ورک کے چینلوں کی نشریات کی ہیکنگ کا سعودی عرب کے ساتھ تعلق ہے۔ تاہم وہ اس سلسلے میں ایک بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔میڈیاسے بات چیت میں انہوں نے کہاکہ درحقیقت قطری حکومت مہذب ممالک کے انداز اور معروف سفارتی اسلوب سے معاملات نمٹانے کی عادی نہیں۔

(جاری ہے)

اس کے پاس میڈیا کے ذریعے غیر مہذّبانہ طور پر الزام تراشی کے سوا کوئی طریقہ نہیں۔ قطری حکام سمجھتے ہیں کہ اس طرح شور مچا کر وہ اپنے بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ پا لیں گے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا بحران باقی ہے اور ان کے الزامات پہلے کی طرح فضا میں دٴْھول بن کر اڑ جاتے ہیں۔ یہ الزام تراشی قطر کی جانب سے اپنے بائیکاٹ کے مسئلے کا رٴْخ کھیلوں کی جانب موڑ دینے کی ایک نئی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں۔

متعلقہ عنوان :