بھارتی سیکورٹی فورسز کی سرکریک میں مچھلی کرنے والی کشتی پر دھاوا، ایک ماہی گیر گرفتار، کشتی وجال بھی اپنے ہمراہ لے گئے

قابض بھارتی اہلکاروں کی جانب سے پاک سمندری حدود کی خلاف ورزی کرکے غریب ماہی گیروں کو گرفتار کرنا انسانی حقوق کی پامالی ہے، انصار برنی

اتوار جون 22:00

سجاول (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) بھارتی بارڈر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی سمندری حدود سیر کریک میں اچانک کاروائی مچھلی کا شکار کرنیوالی کشتی میں سوار ماہی گیروں نے گرفتاری کے خوف سے سمندر میں کود کر جان بچاکے فرار کی کوشش کی لیکن اس دوران تحصیل جاتی کے علاقہ زیرو پوائنٹ کا رہائشی ماہی گیر غلام مصطف ولد غلام قادر چنڈانی کو بی ایس ایف گرفتار کرکے کشتی و جال سمیت ساتھ لے گئے جبکہ فرار ہونیوالے ماہی گیر مختلف کشتیوں میں سوار ہوکر حال سے بے حال ہوکر گھر پہنچ گئے۔

غریب ماہی گیرکی کشتی سمیت گرفتاری و روزگار کا ذریعہ ضبط ہونے کی خبر علاقہ میں پھیلتے ماہی گیر کے گھر میں کھرام مچ گیا۔ اہل خانہ کی آہ وبقا دوسری جانب برنی انٹرنیشنل ٹرسٹ سربراہ و سابقہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق انصار برنی نے پاکستانی پانیوں سے غریب لاچار ماہی گیر کی کشتی و جال سمیت گرفتاری اور مچھیروں کو اسلحہ کے زور پر بھگا بھگا کے پکڑنے کی کوشش کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ قابض بھارتی اہلکاروں کی جانب سے پاک سمندری حدود کی خلاف ورزی کرکے غریب ماہی گیروں کیخلاف دہرتی تنگ کرکے بے گناہ ماہی گیروں کو گرفتار کرکے انکے روزگار کے ذریعے کو نیلامی کی خاطر ضبط کرکے سالوں تک قید کرنا زیادتی و انسانی حقوق کی پامالی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پیٹ کی خاطر کھلے سمندر میں مچھلی کے شکار پر جانیوالے غریب ماہی گیروں کو چن چن کر گرفتار کرنا اور ان سے روزگار کا ذریعہ چھیننا بے حد ظلم ہے۔ ماہی گیروں کی گرفتاری اور قابض بہارتی اہلکاروں کی ظالمانہ کاروائیوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے حکومت وقت سمیت عالم امن سے مطالبہ کیا کہ بھارتی اہلکاروں کی کھلی دہشتگردی کا نوٹس لیکر سالوں سے بہارتی جیلوں میں قید بے گناہ پاکستانی ماہی گیروں کو بازیاب کرواکے انکے ورثہ میں چھائی بے چینی ختم کی جائی-یاد رہے کہ زیرو پوائنٹ کے پہلے سے 14 ماہی گیر بھارت کے مختلف جیلوں میں سالوں سے قید کی اذیت بھگت رہے ہیں۔

متعلقہ عنوان :