یمن، پے درپے شکستوں سے حوثی باغی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،

منحرف ارکان کی سرکاری فوج میں شمولیت برگیڈ 5کے سربراہ میجنر جنرل سعید ابو بکرالحریری نے باغیوں سے علیحدگی کر کے سرکاری فوج میں شمولیت اختیار کر لی

پیر جون 15:09

الحدیدہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) یمنی شہر الحدیدہ میں اتحادیوں کے ہاتھوں پے درپے شکستوں سے حوثی ملیشیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی،جنگجو منحرف ہونے کے بعد سرکاری فوج میں شامل ہونے لگے ،برگیڈ 5کے سربراہ میجنر جنرل سعید ابو بکرالحریری نے باغیوں سے علیحدگی کر کے سرکاری فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یمن کے مغربی ساحلی شہر الحدیدہ میں سرکاری فوج کے ہاتھوں پے درپے شکست کے بعد ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا میں پھوٹ پڑ گئی اور جنگجو منحرف ہونے کے بعد سرکاری فوج میں شامل ہونے لگے ہیں۔

اخبار الشرق الاوسط کے مطابق حوثیوں کی جانب سے الحدیدہ کے بریگیڈ پانچ کے سربراہ میجنر جنرل سعید ابو بکرالحریری باغیوں سے الگ ہوگئے ہیں اور انہوں نے سرکاری فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

(جاری ہے)

ادھر یمن کے عسکری اور طبی ذرائع کے مطابق الحدیدہ میں حوثیوں کا ایک فیلڈ کمانڈر عبدالکریم مروان اپنے کئی ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے مغربی ساحلی محاذ پر لرائی کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے کئی سرکردہ لیڈروں جن میں کرنل بندر یحیی معیض، شرف محمد منصور القحوم اور کئی دوسرے شامل ہیں کی المحویت گورنری میں تدفین کی ہے۔

درایں اثنا یمن کے حوالے سے ایک دوسری پیش رفت کے مطابق اقوام متحدہ کے مندوب مارٹن گریویتھ آج لکسمبرگ میں یورپی یونین کے اجلاس میں یمن سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔العربیہ چینل نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی یونین یمن جنگ ختم کرنے کے لیے یو این کے مشن کی حمایت کریں گے۔توقع ہے کہ لکسمبرگ میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں الحدیدہ میں لڑائی کے دوران فریقین پر شہریوں کی جان ومال کے تحفظ پر زور دیا جائیگا اور متحارب فریقین کو اختلافات مذاکرات کی میز پرحل کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔