نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کیس

لاہور ہائی کورٹ نے دونوں کو نوٹس جاری کر دیئے شاہد خاقان عباسی عدالت میں پیش ہو کر پوزیشن واضح کریں، لاہور ہائی کورٹ کا حکم

پیر 25 جون 2018 15:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 جون2018ء) عدالت نے قائد ن لیگ میاں نواز شریف کے خلاف بغاوت کیس میں نواز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو نوٹس جاری کر دئیے۔تفصیلات کے مطابق قائد ن لیگ میاں نواز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کی کاروائی کی لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔دوران سماعت درخوستگزار نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کا انٹرویو غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

جبکہ و زیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک انتہائی اہم اجلاس کی کاروائی نواز شریف کو جا کر بتا دی۔عدالت نے نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔جب کہ لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس تمام صورتحال میں عدالت میں پیش ہو کر اپنی پوزیشن واضح کریں۔

(جاری ہے)

یاد رہے نواز شریف کے متنازع بیان کی وجہ سے لاہور ہائیکورٹ میں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار کی جانب سے موقف یہ اختیار کیا گیا تھا کہ نواز شریف کے متنازع بیان سے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچا ہے جس کے تحت ان کے اور وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا جائے۔۔نواز شریف کو ملکی اداروں کے ساتھ تصادم کی پالیسی نے اب تک بہت نقصان پپنچایا ہے۔عام انتخابات کی آمد امد ہے لیکن اس سے پہلے ہی نواز شریف کے کئی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔جن میں سر فہرست سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار ہیں۔۔چوہدری نثار کے بعد ن لیگ کے سینئیر رہنما زعیم قادری نے پارٹی ست بغاوت کی جب کہ اس کے بعد گزشتہ روز سابق صوبائی وزیر چوہدری عبد الغفور میو نے بھی پارٹی کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کیا۔۔