امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے معمررکن کے 22 سالہ خاتون رپورٹر کے ساتھ معاشقے کے انکشاف نے امریکا میں صحافیوں اور ان کی خبروںکے ذرائع کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

پیر جون 15:40

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) انتہائی حساس دستاویزات تک رسائی رکھنے والے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے معمر رکن جیمز انتھونے وولف کے 22 سالہ خاتون رپورٹر کے ساتھ معاشقے کے انکشاف نے امریکا میں صحافیوں اور ان کی خبروںکے ذرائع کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اس افیئر کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس معاشقے کا آغاز مئی 2014 میں اس وقت ہوا جب اڑھائی درجن کے قریب اخبارات کے مالک امریکی گروپ آف پبلیکیشنز میک کلیچی کے واشنگٹن بیورو میں تعینات 22 سالہ انٹرنی رپورٹر علی واٹکنز کو 53 سالہ جیمز وولف کی طرف سے بریسلٹ کا غیر معمولی تحفہ ملا۔ جیمز وولف سے ان کی ملاقات امریکی دارالحکومت میں خبروں کے سورس کی تلاش کے دوران ہوئی تھی۔

(جاری ہے)

جیمز وولف نے بعد ازاں ان کو ویلنٹائن کارڈ بھی بھیجا۔علی واٹکنز سے جیمز کو بتایا کہ ان کا تعلق صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں تک محدود رہنا چاہیے۔ علی واٹکنز نے اس حوالے سے اپنے ایڈیٹر کو بھی اعتماد میں لیا۔ایف بی آئی کی تحقیقات کے نتیجہ میں جیمز وولف کو رواں ماہ کے آغاز میں حراست میں لے لیا گیا۔ ان پر تحقیقات کے دوران علی واٹکنز اور تین دیگر رپورٹرز کے ساتھ روابط بارے جھوٹ بولنے کا الزام ہے۔

جیمزوولف سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سرابراہ تھے اور اس حیثیت سے انہیں سی آئی اے اور ایف بی آئی جیسے امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹس تک رسائی حاصل تھی۔وہ اس عہدے پر اس وقت سے تعینات تھے جب علی واٹکنز پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے حکام نے اب نیویارک ٹائمز کے لیئے کام کرنے والی رپورٹر علی واٹکنز جنہوں نے بزفیڈ نیوز، ہفنگٹن پوسٹ جیسے اداروں کے لئے بھی کام کیا ہے ، کا ای میل اور فون ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اس اقدام کے خلاف آزادی صحافت کے لئے کام کرنے والے اداروں نے احتجاج کیا ہے۔ تحقیقات کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ علی واٹکنز نے جیمز وولف سے روابط منقطع ہونے کے بعد سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے ایک اور سٹاف ممبر سے روابط استوار کر لئے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے متعدد حکومتی عہدیداران کے ساتھ بھی روابط تھے۔

علی واٹکنز کے اس معاملے کے افشا ہونے سے امیریکی صحافیوں خاص طور سے اس پیشے سے وابستہ خواتین کے لئے خاصی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں جن کو اب شک کی نظروں سے دیکھا جانے لگا ہے۔امریکی صحافیوں نے علی واٹکنز کی دستاویزات کو قبضے میں لئے جانے کو آزادی صحافت کے منافی اقدام قرار دیا ہیجبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی پر تحقیقاتی اداروں کے کردار کی تعریف کی ہے۔واضح رہے کہ جیمز وولف نے اس معاشقے کا خفیہ اداروں کو شک ہوتے ہی ریٹائمنٹ لے لی تھی۔وہ اس معاشقے کے آغاز کے وقت اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہ رہے تھے۔