پی پی 18راولپنڈی سے شکیل اعوان کو ٹکٹ کا اجراء،مسلم لیگ (ن) کو مشکلات کا سامنا،

ضیاء اللہ شاہ اور حافظ عبداللہ بٹ کے حامی شکیل اعوان کو ٹکٹ کے اجراء پر ناراض ہو گئے مسلم لیگ (ن)کو حلقے میں غلط امیدوار کو ٹکٹ جاری کرنے پر شکست بھی ہو سکتی ہے ،مقامی لیگی قیادت میں اختلافات سے قومی اسمبلی کی نشست پر بھی اثر پڑسکتا ہے،سیاسی تجزیہ نگار

پیر جون 20:32

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پی پی 18راولپنڈی سے سابق رکن قومی اسمبلی ملک شکیل اعوان کو ٹکٹ کے اجراء پر مقامی لیگی کارکن ناراض ہو آگئے جس سے مسلم لیگ (ن) کو حلقے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔پی پی 18سے ماضی میں منتخب ہونے والے ضیاء اللہ شاہ اور لیگی رہنما حافظ عبداللہ بٹ کے حامیوں نے ملک شکیل اعوان کو ٹکٹ کے اجراء پر احتجاج بھی کیا ہے ۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رتہ امرال اور اس سے ملحقہ علاقوں کے ووٹرز پی پی18میں الیکشن کے دوران اہم کردار ادا کرتے ہیں،رتہ امرال اور اس ملحقہ علاقوں میں شکیل اعوان کی نسبت لیگی رہنما ضیاء اللہ شاہ اورحافظ عبداللہ بٹ کے حامیوں کی اکثریت ہے ،جس سے مسلم لیگ (ن)کو اس حلقے میں غلط امیدوار کو ٹکٹ جاری کرنے پر شکست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ،مقامی لیگی قیادت میں اختلافات سے قومی اسمبلی کی نشست پر بھی مسلم لیگ (ن)کو اثر پڑسکتا ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق سینیٹر چوہدری تنویر خان نے ٹکٹوں کے اجراء سے قبل پی پی18سے لیگی رہنما حافظ عبداللہ بٹ کو ٹکٹ کے اجراء کی یقین دہانی کروائی تھی جسکی وجہ سے حافظ عبداللہ بٹ تخت ملنے کیلئے پر امید تھے۔حافظ عبداللہ بٹ پاکستان مسلم لیگ (ن))برطانیہ کے نائب صدر ناصر بٹ کے بھائی ہیں،ناصر بٹ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی احتساب عدالت پیشی اور لندن میں نواز شریف کی مصروفیات کے دوران اکثر ان کے ہمراہ دیکھے گئے ہیں مگر حیران کن طور پر انکے بھائی کو ٹکٹ کے اجراء میں نظر انداز کیا گیا ہے،دوسری جانب 2013کے عام انتخابات میں پی پی18سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار اعجاز خان جازی جیتے تھے ،2013میں مسلم لیگ (ن) کے شہریار ریاض نے ٹکٹ نہ ملنے پر پی ٹی آئی کے امیدوار اعجاز خان جازی کی حمایت کی تھی جسکی وجہ سے اعجاز خان جازی کامیاب ہوئے تھے،دوسری جانب سے شہریار ریاض نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور پہلے پی ٹی آئی نے شہریار ریاض کو پی پی 15راولپنڈی سے ٹکٹ جاری کیا جو بعدازاں ٹکٹوں پر نظرثانی کے بعد واپس لے لیا گیا ہے۔