ملائیشیا: مسجد کے باہر ناچنے پر سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد

ناچنے والی ویڈیو سے مسلمان عبادت گزاروں کے تضحیک اور مقامی مہمان داری کا مذاق اڑایا گیا ۔ حکام

منگل جون 15:23

کو الا لمپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) ملائیشیا میں سوشل میڈیا پر دو خواتین کی مسجد کی عمارت کے سامنے ناچنے والی ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد اس مسجد میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس ویڈیو میں دو خواتین کو گھٹنے سے اوپر لباس پہنے ہوئے اور کھلے پیٹ کے ساتھ ملائیشیا کے جزیرے بورنیو میں قائم کوٹا کنابالو مسجد کے سامنے ناچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

حکام ان دونوں خواتین کی شناخت کے لیے کاروائیاں کر رہی ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ دونوں غیر ملکی تھیں اور ان کا تعلق مشرق بعید کے ممالک سے ہے۔ ملائیشیا کی ریاست صباح میں وزارت سیاحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 'اس ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان عبادت گزاروں کے تضحیک کی گئی اور مقامی مہمان داری کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

' مسجد کے چئیرمین نے کہا کہ عوامی ٹرانسپورٹ کو سیاحوں کو مسجد کی عمارت تک لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مزید کہا کہ سیاحوں کو لانے والی کمپنیوں سے بھی گفتگو کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ پیش آئیں۔

ملائیشیا میں غیر ملکیوں کو عام طور مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مذہبی مقامات اور مساجد جاتے ہوئے سادہ لباس پہنیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ملائیشیا کی صباح ریاست میں ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔سال 2015 میں ایک ملائیشیائی افسر نے بورنیو میں آنے والے ایک زلزلے کا مورد الزام وہاں کے ایک مقدس پہاڑ پر برہنہ ہونے والے غیر ملکیوں کو ٹھیرایا تھا۔

واضح رہے کہ زلزلے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ملائیشیا کے علاوہ بھی دیگر ممالک میں بھی سیاح اکثر مقامی انتظامیہ کے زیر عتاب آتے رہے ہیں۔جنوری 2018 میں پانچ برطانوی شہری سمیت دس غیر ملکیوں کو کمبوڈیا میں پورنوگرافی کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا تھا جب ان کی وہ تصاویر سامنے آئیں جن میں ان سیاحوں کو ایک پارٹی میں فحش حرکات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

نومبر 2017 میں تھائی لینڈ میں دو امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا جب انھوں نے وہاں کے ایک مندر پر اپنی نامناسب تصاویر لی تھیں جو کہ بعد میں انٹرنیٹ پر جاری کر دی گئی تھیں۔مئی 2017 میں بلے بوائے میگزین کی ماڈل نے نیوزی لینڈ کے پہاڑ تراناکی پر اپنی برہنہ تصاویر جاری کی تھیں جن کے بعد ملک بھر میں غصے کا اظہار کیا گیا تھا کیونکہ وہ پہاڑ مقامی ماؤری برادری کے لیے مقدس قرار دیا جاتا ہے۔اپریل 2014 میں سری لنکا نے ایک برطانوی عورت کو اس لیے ملک بدر کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے ہاتھ پر بدھا کی ٹیٹو کیا ہوا تھا۔ لیکن بعد میں ان خاتون کو ملک کی جانب سے پانچ ہزار ڈالر ادا کیے گئے اور سری لنکا کی سپریم کورٹ نے کہا کہ ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا تھا۔