ضروری اعلان ، مجھے دو بکرے ملے ہیں

سیالکوٹ کے ٹریفک وارڈن نے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر اگست 16:09

ضروری اعلان ، مجھے دو بکرے ملے ہیں
سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 اگست 2018ء) : یوں تو ٹریفک وارڈنز رشوت خوری اور شہریوں کو ستانے کے لیے کافی مشہور ہیں، جگہ جگہ ٹریفک سگنلز پر کھڑے ٹریفک پولیس اہلکار شہریوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹوکتے اور حسب ضرورت ان کا چالان بھی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ٹریفک اہلکاروں سے شہری حتی الامکان جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا پھر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر انہیں سو دو سو روپے رشوت دے کر چالان سے بچ جاتے ہیں ۔

لیکن ہر محکمے میں سب ملازمین ایک جیسے نہیں ہوتے اور اس کا ثبوت سیالکوٹ کے ایک ٹریفک پولیس اہلکار نے اس وقت دیاجب اس نے ایک شہری کے گُمے ہوئے بکرے اس تک پہنچا دئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایسا ناقابل یقین واقعہ سیالکوٹ میں پیش آیا جہاں ٹریفک وارڈن کو 2 لاوارث بکرے ملے اور اس نے ان بکروں کے مالک کو ڈھونڈ نکال کر اس کے حوالے کردئے۔

(جاری ہے)

ٹریفک وارڈن عمر سعد کو سڑک پر دو بکرے ملے ، اُس نے ہر آتے جاتے شخص سے دریافت کیا لیکن سب نے ان کی ملکیت سے انکار کر دیا۔

اس حوالے سے ٹریفک وارڈن عمر سعد نے بتایا کہ انہیں دوبرچی چوک کے قریب 2 بکرے ملے جو لاوارث تھے، ان کے آس پاس کوئی موجود نہیں تھا۔ٹریفک وارڈن عمر سعد نے بتایا کہ میں نے ان بکروں کا مالک ڈھونڈںے کے لیے موبائل وین پر لاؤڈ اسپیکر لگایا اور سیالکوٹ کی سڑکوں پر اعلان کرتا رہا۔ جس کے بعد بالآخر مجھے ان بکروں کا مالک مل گیا اور میں نے دونوں بکرے ان کے اصل مالک کے سپرد کردئے۔

عمر سعد نے بتایا کہ بیوپاری کا تعلق سوات سے تھا ۔ 2 گمشدہ بکروں کو اپنے سامنے دیکھ کر بیوپاری خوشی سے نہال ہو گیا۔ بیوپاری کا کہنا تھا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر سوات سے بکرے لاکر سیالکوٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ بکرے گُم ہو جانے سے میں مایوس ہو گیا ، مجھے لگا میرا نقصان ہو جائے گا لیکن فرشتہ صفت ٹریفک وارڈن عمر سعد نے میرے گمشدہ بکرے مجھ تک پہنچائے اور انسانیت کی مثال قائم کر دی۔