وزیراعظم نے مہاجرین کو شہریت دینے سے متعلق اسمبلی سے تجاویز مانگ لیں

سوال پوچھتا رہوں گا کہ ہمارے یہاں یہ انسان رہ رہے ہیں ان کا کیا بنے گا وزیراعظم عمران خان فیصلہ کر نے سے پہلے سب سے مشاورت کرینگے ،ْ1951 کے قانون کے تحت جو بچے یہاں پیدا ہوئے شہریت ان کا حق ہے ،ْکراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وجہ بیروزگاری ہے ،ْ اسمبلی میں اظہار خیال

منگل ستمبر 13:49

وزیراعظم نے مہاجرین کو شہریت دینے سے متعلق اسمبلی سے تجاویز مانگ لیں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے مہاجرین کو شہریت دینے سے متعلق قومی اسمبلی سے تجاویز مانگتے ہوئے کہاہے کہ سوال پوچھتا رہوں گا کہ ہمارے یہاں یہ انسان رہ رہے ہیں ان کا کیا بنے گا فیصلہ کر نے سے پہلے سب سے مشاورت کرینگے ،ْ1951 کے قانون کے تحت جو بچے یہاں پیدا ہوئے شہریت ان کا حق ہے ،ْکراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وجہ بیروزگاری ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مہاجرین کو شہریت دینے سے متعلق فیصلہ نہیں ہوا ،ْاس پر بحث کیلئے بات چھوڑی ہے ،ْ آپ سب اس پر تجاویز دیں، ہم سب سے تجاویز مانگیں گے اور فیصلہ کرنے سے پہلے سب سے مشاورت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سوال پوچھتا رہوں گا کہ ہمارے یہاں یہ انسان رہ رہے ہیں ان کا کیا بنے گا ان پر فیصلہ کرنا پڑیگا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ 1951 کے قانون کے تحت جو بچے یہاں پیدا ہوتے ہیں شہریت ان کا حق ہے کیونکہ یورپ سمیت دیگر ممالک میں بھی یہ قوانین ہیں جو بچے پیدا ہوتے ہیں شہریت ان کا حق ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جومہاجرین عارضی طور پر آتے ہیں ان کیلئے الگ قانون ہے تاہم بنگلادیش سے آنے والے لوگ یہاں 45 سے 50 سال سے رہ ہے ہیں ان کا استحصال ہورہا ہے ،ْان کو شہریت ملتی ہے اور نہ وہ واپس جاتے ہیں، ان کی نسلیں بڑھ چکی ہیں، نہ ہم ان کو ملک سے باہر بھیج سکتے ہیں نہ وہ ہمارے شہری ہیں وہ نان شہری بن چکے ہیں، انسانیت کے تقاضے پر کہہ رہا ہوں کہ وہ انسان ہیں اگر آج ان کا فیصلہ نہیں ہوا تو کب کریں گی ۔

انہوںنے کہاکہ جو بچے جہاں پیدا ہوتے ہیں وہ اسی ملک کے شہری کہلاتے ہیں اور یہ قانون دنیا بھرمیں رائج ہے، پاکستان میں مقیم افغان اوربنگلہ دیشی پناہ گزینوں کا حتمی فیصلہ کرنا ہوگا، انسانیت کے ناطے افغان اوربنگلہ دیشی پناہ گزین بچوں کو شہریت دے رہے ہیں ،ْیہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، مہاجرین بھی انسان ہیں ان کا فیصلہ نہ کیا تومعاشرے میں شدید مسائل پیدا ہوں گے، اپوزیشن اس بارے میں تجاویز دے تو بہتر ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین ہیں آپ مہاجرین کو زبردستی نہیں بھیج سکتے اس لیے مہاجرین کے جو بچے یہاں پیدا ہوئے ان کیلئے کوئی پالیسی بنانا پڑیگی ،ْیہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، قوم کو کبھی نہ کبھی ان کا فیصلہ کرنا پڑیگا۔وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کیا ندر اسٹریٹ کرائم بڑھنے کی وجہ یہی ہے کہ جو یہاں پیدا ہوئے انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں، ان کے بچے اسکول نہیں جاسکتے، کراچی میں کئی سال سیلوگ رہ رہے ہیں ان کو شہریت نہیں ملتی، ہم نہ ان کو ملک سے باہر بھیج سکتے ہیں اور نہ ہی وہ یہاں کے شہری ہیں، ہماری ہر سوسائٹی میں یہ شدید مسائل آنے والے ہیں۔