وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر آئندہ 10 دنوں میں کیا کرنے والے ہیں؟

عوام کن 3 وجوہات کی بنا پرٹیکس نہیں دیتی؟ اسد عمر نے آئندہ 10 دنوں میں ہونے والے 5 بڑے کام بتا دئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل ستمبر 12:38

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر آئندہ 10 دنوں میں کیا کرنے والے ہیں؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 ستمبر 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ سڑکچرل ریفارمز کی ہمیں بے حد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر برائے ریونیو حماد اظہر کو ایک پیغام بھیجا جس میں میں نے انہیں کہا کہ آئندہ دس دنوں کے اندر کرنے والے یہ 5 کام ہیں جو آپ نے کرنے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ پالیسی اور عملدرآمد کو ہم نئے الگ الگ کرنا ہے۔

اس حوالے سے پہلے ایک قانون بھی وضع کیا گیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیاگیا۔ ایک تو یہ کام کرنا ہے کہ جس نے بھی ٹیکس کا پیسہ اکٹھا کرنا ہے پالیسی اُس سے الگ کر دیں۔ پالیسی کوئی اور بنائے اور اس کے لیے ایک باقاعدہ پالیسی بورڈ ہو۔ جو عملدرآمد کا کام ہے اُس میں دو بنیادی چیزیں ہیں۔

(جاری ہے)

ٹیکس وصول کرنے کا کام ڈنڈے کے زور سے نہیں ہوگا، ہمیں سہولت دے کر عوام سے ٹیکس کے پیسے وصول کرنے ہیں۔

ہم نے انفرادی ٹیکس پئیر اور بزنس کے لیے بھی سہولت پیدا کرنی ہے، اس کے لیے ٹیکس کے نظام کے اندر اور ٹیکس جمع کروانے کے لیے ہمیں ایک سہولت دینا ہو گی تاکہ ٹیکس کے حصول میں بھی آسانی ہو، اور جہاں تک ہو سکے مشاورت کو بھی عمل میں لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تاجر کمیونٹی کو پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ کوئی ایسا سسٹم بناؤ جس میں مارکیٹ کی تین کیٹگریز ہوں جس پر ہم بھی ٹیکس کے لیے ایک فکسڈ رقم متعین کر دیں، تاکہ ہم کم از کم ٹیکس نیٹ کے اندر آنا شروع کریں۔

اسد عمر نے کہا کہ ہمارے پاس بہت ڈیٹا موجود ہے، بالفرض آپ 2800 سی سی کی ایک نئی گاڑی خرید رہے ہیں جو تین کروڑ روپے کی ہے، ٹیکس فائلر وہ نہیں ہے، آپ کے پاس اس شخص کا نام آ گیا ہے ، اب اس نام کے خلاف کارروائی کرنے سے کسی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ آئندہ 10 روز میں کیے جانے والے پانچ کاموں میں سے یہ بھی ایک کام ہے۔ لوگ 2،3 وجوہات کی بنا پر ٹیکس نہیں دیتے، ایک وجہ یہ ہے کہ نظام بہت مشکل ہے جسے ہم نے آسان بنانا ہے، دوسری یہ وجہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ٹیکس کیوں دیں؟ ہمارے ٹیکس کے پیسے چوری کر کے پارک لین اپارٹمنٹس بن جاتے ہیں، اور ہمیں عوام کو یہ دکھانا ہے کہ نئی حکومت صداقت اور امانت کے تمام تقاضے پورے کر رہی ہے۔

تیسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ حکومتی نمائندوں کی اپنی شاہ خرچیاں ختم نہیں ہوتیں تو ہم ٹیکس کیوں دیں؟ تو اب سب نے دیکھا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے شروع ہو کر تمام حکومتی نمائندے عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور ہمارا عزم ہے کہ یہ قوم کا پیسہ ہے اور اسے ہم نے ضائع نہیں کرنا۔