صہونی ریاست بائیکاٹ مہم میں حصہ لینے والی فلسطینی لڑکی کو اسرائیل میں داخلے کی اجازت مل گئی

طالبہ کو داخلے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کی وجوہات درست نہیں، اس لیے اسے ختم کیا جاتا ہے‘ سپریم کورٹ

جمعہ اکتوبر 20:40

یروشلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اکتوبر2018ء) اسرائیل کی سپریم کورٹ نے 'صیہونی ریاست بائیکاٹ مہم میں فلسطین کی حمایت کا حصہ بننے والی امریکی طالبہ پر ملک میں داخلے کی پابندی کو ختم کردیا۔ سپریم کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل بینچ کا کہنا تھا کہ ’طالبہ کو داخلے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کی وجوہات درست نہیں، اس لیے اسے ختم کیا جاتا ہے‘۔واضح رہے کہ اسرائیل مخالف مہم کی حمایت کرنے پر 2 اکتوبر کو لارا القاسم کو بین گوریون ایئرپورٹ پر روک کر حراست میں لیا گیا تھا۔

فلسطیی نڑاد لارا القاسم امریکا سے یروشلم پہنچی تھیں تاکہ ہیبریو یونیورسٹی سے اپنا ماسٹرز شروع کر سکیں لیکن انہیں ایئرپورٹ پر ہی روک کر حراست میں لے لیا گیا تھا اور قانونی ویزا ہونے کے باوجود وہ گزشتہ 2 ہفتوں سے ایئرپورٹ پر سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں تھیں۔

(جاری ہے)

22 سالہ امریکی طالبہ کو ملک میں داخلے سے روکتے ہوئے فوری طور پر اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ہم نے لارا کو زبردستی حراست میں نہیں رکھا اور وہ اپنے ملک واپس جا سکتی ہیں جبکہ اگر وہ معافی مانگیں اور بائیکاٹ مہم سے علیحدگی کا اعلان کریں تو ہم اپنے فیصلے پر غور بھی کر سکتے ہیں۔ان کی اپیل کو اسرائیل کی 2 ذیلی عدالتوں نے مسترد کیا تھا۔خیال رہے کہ بائیکاٹ، ڈائیویسٹمنٹ اور سینکشنز مہم کا آغاز 2005 میں فلسطین کے سول سوسائٹی گروپ کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں دنیا بھر کے عوام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فلسطین پر اسرائیلی تشدد کے خلاف اس کا ثقافتی، معاشی، سماجی اور تعلیمی بائیکاٹ کریں۔۔