اوبر اور کریم سندھ حکومت سی روٹ پرمٹ کی سات دن کے اندر اجازت لے،اویس قادرشاہ

اگر اجازت نہ لی گئی تو ان کو بندکردیا جائے گا،کراچی کے عوام سے ٹرانسپورٹرز پرانا کرایہ ہی لیں گے،وزیر ٹرانسپورٹ سندھ

پیر اکتوبر 19:57

اوبر اور کریم سندھ حکومت سی روٹ پرمٹ کی سات دن کے اندر اجازت لے،اویس ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2018ء) سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ ائنڈ ماس ٹرانزٹ سید اویس قادر شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں کریم اور اوبر ٹئکسی نے سندھ حکومت سے اجازت نہیں لی اسے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہیں۔یہ بات انہوں نے محکمہ جاتی افسران کے اجلاس کی صدارت کرنے کے دواران کہی۔انہوں نے نجی کمپنی کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اوبر اور کریم سندھ حکومت سے روٹ پرمٹ کی سات دن کے اندر اجازت لے،اگر اجازت نہیں لی گئی تو ان کو بندکردیا جائے گا،صرف ایم او یو پر دستخط ہوئے تھے، پہر تین سال تک ان سے جواب نہیں آیا۔

انہوں نے افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئیکہا کہ کراچی میں گزشتہ روز کریم ٹئکسی کا واقعہ پیش آیا تھا یے کیسے ہوا،اس کے خلاف کوئی ایکشن ہوا، سندھ حکومت کریم اور اوبر انتظامیہ کو لیٹر لکھے گی تاکہ ایک ہفتے کہ اندر رجسٹریشن کروالیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اسکول بسز اور وینز میں سی این جی سے نقصانات ہوتے ہیں،ان کو بند کیا جائے گا، اسکول وینز اور انٹرا سٹی سروسز بسز میں سی این جی کٹ لگانے پر 2015 سے پابندی ہے،لمبے روٹ پر چلنے والی گاڑیوں میں سی این جی سلینڈر لگانے پر پابندی ہے، کراچی میں اسکولز وینز اور بسز میں لگے سی این جی سلینڈر کے خلاف کارروائی کرکے افسران ہفتہ وار رپورٹ دیں۔

سید اویس قادرشاہ نے کہا کہ کراچی میں بائیکا، اور کریم موٹر بائیک کو بھی بندکرنے پر غور کر رہے ہیں،کیوں کہ انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ سے اجازت نہیں لی،خدا خواستہ کوئی واقعہ ہوجائے تو اس کا زمہ دار پہر سندھ حکومت کو ٹھرایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرین لائن وفاق کا منصوبہ ہے پر سندھ حکومت سہکار کر رہی ہے،نئیں وفاقی حکومت کے آنے کی وجہ سے گرین لائن بس پروجیکٹ کی پالیسی تبدیل کی گئی ہے،تمام منصوبے جلد مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو اچھا ٹرانسپورٹ مہیہ کر سکیں، محکمہ ٹرانسپورٹ کی پراپرٹی سے قبضے جلد ختم کروائے جائین،اور رپورٹ دی جائے۔

انہوں نے افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپو رٹرز نے کس کے کھنے پر کرایوں میں اضافہ کیا ٹرانسپورٹرز کی من مانی نہیں چلے گی،کراچی کے عوام سے ٹرانسپورٹرز پرانہ کرایہ ہی لیں گیں، سندھ حکومت نے ابھی تک کوئی اضافہ نہیں کیا،اضافی کرایہ لینے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے،جو ٹرا نسپورٹرز روٹ پرمٹ لینے کہ لیے محکمہ سے اجازت نہیں لیتے ان کہ خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ ٹرا نسپورٹ انٹرا سٹی، چنگچی، رکشہ اور مزدہ کو روٹ پرمٹ دیتا ہے، پبلک ٹرانپسورٹ کی 8 ہزار ایک سو بتیس منی بسیں کراچی میں چل رہی ہیں۔ سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ ریڈ، بلیو، ییلو، گرین اور اورنج لائن منصوبو کو جلد مکمل کیا جائے کام تیزی سے جاری ہے،تمام افسران دل لگا کر کام کریں عوام کو رلیف دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کا کراچی، سکھر، میرپورخاص، لاڑکانہ میں 47 ٹرئفک سگنلز لگانے کا فیصلہ کیا ہے، کراچی میں 11، سکھر میں 6، لاڑکانہ 6 اور میرپورخاص میں 5 نئیں سگنل لگارہے ہیں۔اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے کراچی میں جاری منصوبوں ریڈ، بلو، ییلو لائن، اورینج سمیت 6 کراچی میں جاری منصوبوں پر بریفنگ بھی دی۔اجلاس میں سیکریٹری سمیت تمام افسران نے شرکت کی۔