اقوام متحدہ چین میں 10لاکھ مسلمانوں کو قید کرنے ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے ،رضا کار انسانی حقوق کا مطالبہ

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل 2013 کے بعد پہلی مرتبہ چین کے ریکارڈ جائزہ لے گی،، چھان بین چین میں اقلتیی گروہوں خاص کر یوغوروں اور تبتیوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر غور کیا جائے گا چینی معنوں میں سوشلزم کا مطلب ہے عدم جمہوریت ، ایک جماعت کی اجارہ داری اور انسانی حقوق کی غیر موجودگی،تبتی رہنما

جمعرات نومبر 18:13

جنیوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 نومبر2018ء) انسانی حقوق کے رضاکاروں نے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک سے مغربی صوبے زنجیانگ میں مبینہ طور پر 10 لاکھ مسلمانوں کو قید کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چین پر دبا ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل 2013 کے بعد پہلی مرتبہ چین کے ریکارڈ جائزہ لے گی، معمول کے مطابق کی جانے والی چھان بین چین میں اقلتیی گروہوں خاص کر یوغوروں اور تبتیوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر غور کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ چینی صوبیزنجیانگ میں میں اکثریتی گروہ ہان چائینیز اور اقلیتی گروہ یوغوروں کے درمیان تنازع میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ چین کا غیر انسانی سلوک کے الزامات رد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مذکورہ صوبے میں اسلامی شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کی جانب سے خطرات ہیں۔

(جاری ہے)

اس بارے میں جرمنی کے شہر میونخ میں موجود ورلڈ یوغور کانگریس کے صدر ڈولکن عیسی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں چین میں انسانی حقوق کی صورتحال بہت خراب ہوئی ہے خاص کر زنجیانگ اور تبت کے علاقوں میں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لیے ہم توقع کرتے ہیں کہ ریاستوں کو اس کے خلاف بھرپور طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے۔خیال رہے کہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام مسلسل مسترد کیا جاتا ہے ان کا کہنا ہے چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث افرادکو کیمپوں میں رکھ کر ہنر کی تربیت دی جاتی ہے تا کہ انہیں روزگار کے موقع میسر آسکے۔اس ضمن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یوغور صوبے میں جبری طور پر حراستی کیمپوں میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو قید کرنے سمیت چینی حکومت کی جانب سے منظم انداز میں کیے جانے والے جبر کا خاتمہ ہونا چاہیے ۔

دوسری جانب تبت کی جلاوطن حکومت کے سربراہ لوبسنگ سنگے نے جینیوا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کا کہا کہ چینی معنوں میں سوشلزم کا مطلب ہے عدم جمہوریت ، ایک جماعت کی اجارہ داری اور انسانی حقوق کی غیر موجودگی۔اس بارے میں سوئٹزر لینڈ میں پناہ لیے ہوئے ایک تبتی راہب کا کہنا تھا کہ اگر اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چین کی بازپرس نہیں کرسکتی تو کون کرے گا ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے ہاتھ اور پاں میں اب تک تشدد کے نشانات موجود ہیں۔انہوں نے عالمی ادارے سے درخواست کی کہ چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بغور جائزہ لیا جائے، کیوں کہ اگر اس مرتبہ اقوامِ متحدہ چین کا احتساب کرنے میں ناکام ہوگئی تو یہ پوری انسانیت کی ناکامی ہوگی۔