ڈی جی نیب کی جعلی ڈگری کا کیس سماعت کیلئے مقرر

سپریم کورٹ میں سماعت 12نومبر ہوگی،چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بنچ تشکیل

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ نومبر 16:05

ڈی جی نیب کی جعلی ڈگری کا کیس سماعت کیلئے مقرر
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 نومبر 2018ء) سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب لاہور کی جعلی ڈگری پر ایکشن لے لیا ہے، چیف جسٹس نے جعلی ڈگری کیس سماعت کیلئے مقررکردیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔تین رکنی بنچ 12نومبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔عدالت نے درخواستگزار کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

واضح رہے اپوزیشن جماعتوں نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی جعلی ڈگری کا معاملہ اٹھا دیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں نے مطالبہ کیا تھا کہ ڈی جی نیب کی جعلی ڈگری کا نوٹس لیا جائے۔ دوسری جانب ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے متنازع انٹرویو کیخلاف اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کروا دی ہے۔

(جاری ہے)

تحریک استحقاق کے متن میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی نیب نے ارکان اسمبلی کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش کی۔

ڈی جی نیب نے اپوزیشن ارکان کا میڈیا ٹرائل کیا۔ ڈی جی نیب نے خفیہ تحقیقات اور دستاویزات میڈیا پر دکھائیں۔ ڈی جی نیب نے چیئرمین نیب کی منشاء سے ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ڈی جی نیب کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خاں  نے کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ نیب آئین اور قانون کےمطابق کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم نے باربارکہا جس پر یقین نہیں تھا کہ حکومت کا نیب پرتسلط ہوسکتا ہے۔ ڈی جی نیب کے انٹرویو سے یقین ہو گیا حکومت کا نیب پہ تسلط ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کے خلاف بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ نیب صرف سیاسی انتقام اور ن لیگ کیخلاف کارروائیاں کرنے کیلئے ہے۔ سب کا احتساب نہیں صرف عملی طور پر ن لیگ کا احتساب ہو رہا ہے۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اگر محتسب کی ڈگری ہی جعلی ہو گی تو اس کا احتساب کیسے اصلی ہو گا۔

ایچ ای سی نے کہا کہ ڈگری کو غلطی سے ویریفائی کیا۔ ڈی جی نیب لاہور کی جعلی ڈگری کا معاملہ متعلقہ پلیٹ فارم پہ اٹھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کل کے انٹرویو کے بعد نیب اثر کھو چکا ہے۔ چیئرمین نیب کو چاہیے کہ ڈی جی نیب کےانٹرویو کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ اب نیب کے فیصلوں کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی ہے۔ ڈی جی نیب نے بھونڈے انداز میں موقف بیان کر کے نیب کو مزید متنازع بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی کا حق ہی نہیں تھا کہ ٹی وی انٹرویوز دیں۔ چیئرمین نیب کو ڈی جی کیخلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ ورنہ ان پربھی انگلیاں اٹھیں گی۔ مشاہد اللہ خاں نے کہا کہ انکوائریوں پر ن لیگ کے لوگ اندر اور جن کیخلاف ریفرنسز وہ حکومت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا ایجنڈا سمجھ آ رہا ہے کیونکہ نیب نے اس ملک کے محسنوں کو جیلوں میں ڈالا ہے۔