غیر سرکاری تنظیم سی پی ڈی آئی اور لارس ویلفیئر ٹرسٹ کا ضلعی لیول بجٹ مشاورتی اجلاس

اتوار دسمبر 20:40

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) غیر سرکاری تنظیم سی پی ڈی آئی اور لارس ویلفیئر ٹرسٹ کا ڈسٹرکٹ لیول بجٹ مشاورتی اجلاس سیکرٹریٹ ہال تور غر میں منعقد ہوا ، جس میں ضلع ناظم تورغر دل روز ڈسٹرکٹ مرد و خواتین کونسلرز اور سول سو سائٹی نے شرکت کی اس موقع پرسی پی ڈی آئی کی جانب ضلع سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشتمل سروے رپورٹ جاری کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق عوامی شمولیت،شفافیت،رائج طریقہ کار کے اعتبار سے خیبر پختونخواہ میں بجٹ سازی عمل سے متعلق مسائل کی نشاندھی ہوتی ہے،اہم اسٹیک ہولڈر ز کے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی،صوبہ بھر میں صرف 2 اضلاع کی ویب سائیٹ فعال ہیں۔سی پی ڈی آئی نے مطالبہ کیا ھے کہ بجٹ رولز 2016 پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔شفافیت کو فروغ دینے کے لیے بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کا پہلا ڈرافٹ اپر یل میں پیش کیا جانا چائیے تا کہ شہریوں کی تجاویز کو بروقت شاملِ کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

سروے کے مندرجات پیش کرتے ہوئے سی پی ڈی آئی کے شمس الہادی نے کہا کہ مقامی حکومتیں مختلف اسٹیک ہولڈرز کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کرنے میں ناکام رہیں اور کسی بھی ضلع کی جانب سے پری بجٹ سٹیٹمنٹ جاری نہیں کی گئی۔بجٹ رولز کے مطابق اس دستاویز کا جاری کیا جانا ضروری ہے تا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے رائے شامل کی جا سکے۔

انہوںنے کہا کہ شفافیت کو فروغ دینے کے سلسہ میں تمام اضلاع کی کارکردگی بہتر نہیں رہی،اضلاع نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر شہریوں کی بجٹ رسائی کے حوالہ سے خاطر خواہ اقدامات نہیں صرف 2 اضلاع کی ویب سائٹس فغال ہیں جس میں ایک ضلع ایسا ہے جسکا پچھلے تین سال کا بجٹ اس کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔سروے کے مطابق کسی ایک ضلع نے بھی سیٹیزن بجٹ جاری نہیں کیا جس کہ مقصد بجٹ کی اہم تفصیلات کو شہریوں تک عام فہم کا انداز میں پونچھنا ہوتا ہے۔

خیبرپختونخوا میں یہ سروے سیٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکاؤنٹبیلٹی سے منسلک 15مختلف سماجی تنظیموں کی مدد سے صوبہ کے 26 اضلاع کیا گیا جبکہ ایک ضلع ایسا ہے جس نے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔یہ نیٹ ورک بجٹ سازی کے عمل میں اصلاحات لانے اور جوابدہی کو فروغ دینے کیلئے کام کر رہا ہے۔