گھانا یونیورسٹی سے ہندوستان کی تحریک آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی کا مجسمہ ہٹادیا گیا

جمعرات دسمبر 23:29

گھانا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 دسمبر2018ء) گھانا کی یونیورسٹی سے ہندوستان کی تحریک آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی کا مجسمہ ہٹادیا گیا۔یونیورسٹی کو گزشتہ دو سال سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ گاندھی افریقی قوم کے خلاف نسل پرستی کے خیالات رکھتے تھے۔بھارت کے سابق صدر پرناب مکھرجی نے 2 سال قبل اکارا میں واقع یونیورسٹی آف گھانا میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کی نشانی کے طور پر اس مجسمے کی نقاب کشائی کی تھی۔

تاہم گاندھی کا مجسمہ نصب کیے جانے کے کچھ عرصے بعد ہی ستمبر 2016 میں یونیورسٹی کے لیکچرار نے اسے ہٹائے جانے کے لیے پٹیشن دائر کی تھی۔اس پٹیشن میں مہاتما گاندھی کی تحریروں کے ان اقتباسات کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں انہوں نے بھارتیوں کو افریقیوں سے بہتر قرار دیا تھا۔

(جاری ہے)

یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اکارا کیمپس میں نصب کیے گئے ۔

انسٹیٹوٹ آف افریقن اسٹڈیز میں زبان ، لٹریچر اور ڈراما کے سربراہ اوبادلے کامبون کا کہنا تھا کہ گاندھی کے مجسمے کو ہٹایا جانا ’عزت نفس‘ کا مسئلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ ’ اگر ہم یہ ظاہر کریں کہ ہمارے لیے ہماری کوئی عزت نفس نہیں اور اپنے ہیروز کی بجائے دوسرے رہنماؤں کی تعریف کریں جن کی نظر میں ہماری کوئی عزت نہیں تب یہ ایک واضح مسئلہ ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر ہم اپنے ہی قومی ہیرو کے لیے عزت نفس کا اظہار نہیں کریں گے تو دنیا ہماری عزت کیسے کرے گی یہ افریقیوں کی عظمت اور عزت نفس کی فتح ہے، ہماری مہم نے اپنا حق ادا کردیا ہے‘۔۔

متعلقہ عنوان :