چینی صنعتکار کمپنیوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے گی،وزیراعلیٰ محمودخان

رشکئی اسپیشل اکنامک زون کی جلد ازجلد تکمیل کیلئے قانونی سفارشات اور تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت

ہفتہ فروری 20:13

چینی صنعتکار کمپنیوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے گی،وزیراعلیٰ ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے رشکئی اسپیشل اکنامک زون کی جلد ازجلد تکمیل کیلئے قانونی سفارشات اور تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے انہوںنے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس مقصد کیلئے صوبائی وزیر خزانہ کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کرکے ایک جامع پالیسی ترتیب دی جائے اور آئندہ کیبنٹ میٹنگ میں فیصلہ سازی کیلئے پیش کرے ۔

انہوںنے کہاکہ چینی صنعتکار کمپنیوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے رشکئی اسپیشل اکنامک زون اور سی آر بی سی ماڈل کے حوالے سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبد الکریم ، سٹرٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید، انتظامی سیکرٹریوں، چیف ایگزیکٹیو کے پی ازمک اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ نے کہاکہ رشکئی اسپیشل اکنامک زون کے قیام سے صوبے کی معیشت میں اضافہ ہو گااور روزگار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایات جاری کیں کہ متعلقہ ادارے مل بیٹھ کر انڈسٹریل زون کی کامیابی میں اپنا کردار اداکریں اور اس مد میں تمام صنعتکار کمپنیوں کو سہولت فراہم کی جائے۔ وزیراعلی نے ہدایات جاری کیں کہ اکنامک زون کے قیام کیلئے تمام تر قانونی مشاورت اور سفارشات کو مدنظر رکھ کر لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جسے وزیرخزانہ کی مشاورت سے آئندہ کیبنٹ میٹنگ میں فیصلہ سازی کیلئے پیش کیا جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے کی معیشت کو خود کفیل بنانے کیلئے ہر ممکن قدم اُٹھائے گی ۔ دیگر اضلاع میں بھی انڈسٹریل زونز کے قیام کے عمل کو تیز تر کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ صوبے میں صنعتکار کمپنیوں کی تمام مشکلات کے حل کیلئے صوبائی حکومت تمام تر اقدامات اُٹھائے گی ۔ ا ن کمپنیوں کیلئے رشکئی اسپیشل اکنامک زون اور دیگر انڈسٹریل زون تک رسائی کو ممکن بنایا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ پورے صوبے میں معیشت کی بڑھوتری کیلئے انڈسٹریل زون کا ایک جال بچھایا جا ئے گا۔ یہ انڈسٹریل زون ایک طرف معیشت کو بڑھوتری دے گا تو دوسری طرف مقامی افراد کیلئے روزگار کی فراہمی ممکن بنائے گا ۔

متعلقہ عنوان :