سکیورٹی خدشات اور دستاویزات چوری ہونے کا خدشہ

وزارت خزانہ نے ملازمین کے اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل فروری 10:19

سکیورٹی خدشات اور دستاویزات چوری ہونے کا خدشہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 فروری 2019ء) : سکیورٹی خدشات اور دستاویزات چوری ہونے کے خدشے کے پیش نظر وزارت خزانہ نے اپنے ملازمین کے اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزارت کے تمام دفاتر میں دفتری اوقات میں گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین پر اسمارٹ فونز استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والے ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کے احکامات بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔

اس حوالے سے اعلیٰ سول خفیہ ادارے نے وفاقی وزارت خزانہ کا سالانہ سکیورٹی معائنہ کیا تھا اور سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین پر دفتری اوقات میں اسمارٹ فونزاستعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔

(جاری ہے)

اس ضمن میں ایک سینئیر اہلکار نے بتایا کہ وفاقی وزارت خزانہ میں بہت اہم فائلز اور دستاویزات موجود ہوتی ہیں جن کی تصاویر اسمارٹ فونز کے ذریعےچوری ہونے کا خدشہ رہتا ہے کیونکہ وزارت میں ایک بڑی تعداد میں چھوٹے اہلکار بھی اسمارٹ فونز کا استعمال کرتے ہیں ۔

اعلیٰ سول خفیہ ادارے کی جانب سے وزارت کے ملازمین پر اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی کی سفارش کی گئی تو اس پر وزارت کے ہیومن ریسورس ونگ نے تمام ونگز کو ایک سرکلر کے ذریعہ تنبیہہ کی کہ ان میں تعینات اہلکاورں کو فوری طور پر اسمارٹ فونز استعمال کرنے سے روکا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف گورنمنٹ سرونٹ ای اینڈ ڈی رولز 1973 کے تحت کارروائی کرکے ملازمت سے فارغ کیا جائے گا۔

اس حوالے سے وزارت کے ایک جونیئر اہلکار نے بتایا کہ اسمارٹ فونز کے استعمال پر عائد یہ پابندی ملازمین کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ جب افسران اسمارٹ فونز استعمال کرتے ہیں تو کیا سکیورٹی خدشات اوراہم دستاویزات کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا ؟ یہ پابندی جونئیر اہلکاروں اور ملازمین پر ہی کیوں عائد کی گئی ہے؟

متعلقہ عنوان :