71سال میں ایک بھی ڈھنگ کا معاشی ماہر پیدا نہ کر سکے‘خرم نواز گنڈاپور

ہر حکومت نے مانگے تانگے کے معاشی دانشوروں سے کام چلایا‘ سیکرٹری جنرل پی اے ٹی

منگل اپریل 17:53

71سال میں ایک بھی ڈھنگ کا معاشی ماہر پیدا نہ کر سکے‘خرم نواز گنڈاپور
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اپریل2019ء) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان بدترین معاشی صورت حال سے دو چار ہے ،جب تک پاکستان کا سرمایہ کار، صنعت کار اور کاروباری برادری حکومت پاکستان کو معاشی بدحالی سے نکالنے کیلئے شانہ بشانہ کھڑے نہیں ہونگے اس وقت تک پاکستان کومعاشی بحران سے آئی ایم ایف نکال سکے گا نہ ورلڈ بنک۔

افسوس سے کہنا پڑرہا ہے معاشی اعتبار سے پاکستان کو جن مشکلات کا سامنا 1947 ء میں تھا وہ صورتحال آج بھی درپیش ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں اور معیشت سے متعلق اداروں اور ہمارے ہائر ایجوکیشن سسٹم کو اس ناکامی کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ ہم 71سال گزر جانے کے بعد بھی ڈھنگ کا ایک بھی معاشی ماہر پیدا نہیں کر سکے۔

(جاری ہے)

ہر حکومت نے مانگے تانگے کے ’’معاشی دانشوروں‘‘ اور عطائیوں سے کام چلایا اور ’’ڈنگ ٹپائو‘‘ معاشی پالیسیاں بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ میری نظر سے 21اکتوبر1947ء کو ایک محبِ وطن کاروباری شخصیت رفیع بٹ کی طرف سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو لکھا گیا خط اور دیا گیا مشورہ گزرا جس میں انہوں نے بانی پاکستان کو لکھا تھا کہ معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے ہمیں غیر ملکی معاشی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے لیت و لعل سے کام نہیں لینا چاہیے ورنہ معاشی حوالے سے بد سے بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ1947 ء میں بانی پاکستان کو دیا گیا مشورہ آج بھی قابل عمل ہے۔ حکومت معاشی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے ماہرین کی مدد لے۔