بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کامقصد ترقی پذیر ممالک میں جدید انفراسٹرکچر کو فروغ دینا،قدیم شاہراہ ریشم کو ترقی دینے کے ساتھ سڑک، ریل اور سمندری منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کرکے ایشیا کو یورپ اور افریقہ کے ساتھ ملانا ہے،

منصوبہ سے متعلق تمام غلط فہمیاں دور کی جائیں گی،منصوبے سے متعلقہ قرضوں کے معاملہ پر ایک فریم ورک جاری کریں گے، چین

جمعرات اپریل 13:52

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کامقصد ترقی پذیر ممالک میں جدید انفراسٹرکچر کو ..
بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 اپریل2019ء) چین نے بین البرعظمی منصوبے ’’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو‘‘(ون بیلٹ ون روڈ) گلوبل انفراسٹرکچر پروگرام کے متعلق غلط فہمیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پروگرام کامقصد ترقی پذیر ممالک میں جدید انفراسٹرکچر کو فروغ دینا ہے اور صدر شی جن پھنگ کا یہ اہم منصوبہ قدیم شاہراہ ریشم کو ترقی دینے کے ساتھ سڑک ریل اور سمندری منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کرکے ایشیا کو یورپ اور افریقہ کے ساتھ ملانا ہے چین کے طاقت ور پولٹ بیورو کے رکن ہوان کنمنگ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کو غیر حقیقی قرار دینا درست نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ منصوبہ سے متعلق تمام غلط فہمیاں دور کی جائیں گی۔منصوبہ کے قرضوں سے متعلق وزیر خزانہ نے لیو کن نے کہا کہ چین قرضوں کے معاملہ پر ایک فریم ورک جاری کرے گا جس کے تحت مالیاتی اداروں اور منصوبہ سے مستفید ہونے والے ممالک سے کہا جائے گا کہ وہ قرضوں کی انتظامی سطح میں بہتری لائیں ۔

(جاری ہے)

دریں اثناء آئی ایم ایف کے سربراہ کرسٹائن لگارڈی نے منصوبہ کے متعلق امریکی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ گلوبل انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی طویل المدت کامیابی کے لئے چین کی بھر پور توجہ درست سمت خوش آئند اقدام ہے ۔