ایف پی سی سی آئی کے موجودہ صدر نے اپنے اقتدارکودوام بخشنے کی ٹھان لی

فیڈریشن کے صدر کی حیثیت سے ایک سال کیلئے منتخب ہونے والے انجینئرداروخان اچکزئی کو صدارتی منصب پر تین سال کیلئے رہنے کی خواہش کو جگا دیا ایف پی سی سی آئی صدر نے سینیٹ چیئرمین سے مدد مانگ لی اور سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کامرس نے اس سلسلے میں کل( بدھ)11ستمبر کو اجلاس بھی طلب کرلیا

پیر ستمبر 17:45

ایف پی سی سی آئی کے موجودہ صدر نے اپنے اقتدارکودوام بخشنے کی ٹھان لی
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 ستمبر2019ء) ایف پی سی سی آئی کے موجودہ صدر نے اپنے اقتدارکودوام بخشنے کی ٹھان لی اور فیڈریشن کے صدر کی حیثیت سے ایک سال کیلئے منتخب ہونے والے انجینئرداروخان اچکزئی کو بھاری وسائل اور بیرون ممالک ہونے والے دوروں نے صدارتی منصب پر تین سال کیلئے رہنے کی خواہش کو جگا دیا جس کیلئے انہوںنے خاموشی کے ساتھ سینیٹ چیئرمین سے اپنی خواہش پوری کرانے کیلئے مدد مانگ لی اور سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کامرس نے اس سلسلے میں کل بدھ 11ستمبر کو اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق ایک سال کیلئے بلوچستان کے کوٹے پر فیڈریشن کے صدر منتخب ہونے والے انجینئر دارو خان نے اپنے عہدے کی معیاد تین سال کرانے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کا سہارا لے لیا ہے اور اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے چیئرمین سینیٹ کا سہارا لیا ہے۔

(جاری ہے)

ایف پی سی سی آئی کے صدر اور دیگر عہدیداروں کا انتخاب ایک سال کیلئے کیا جاتا ہے جبکہ ماضی میں ایک بار عہدے کی معیاد دوسال کی گئی تھی اور ریاض ٹاٹامرحوم دوسال کیلئے صدر منتخب ہوئے تھے لیکن بعد میں عہدے کی معیاد دوبارہ ایک سال کردی گئی تھی لیکن اب فیڈریشن کے موجودہ صدر نے عہدے کی معیاد تین سال کرنے کیلئے جدوجہد شروع کردی ہے جس کیلئے انہوں نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اپنے دوست اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے مدد کی درخواست کی ہے ۔

ذرائع کے مطابق انجینئرداروخان اچکزئی نے صدر کے انتخاب کیلئے جو نامزدگی فارم بھرا تھا اس پرمدت ایک سال تحریر ہے اورانہیں ووٹرز نے بھی ایک سال کیلئے ہی مینڈیٹ دیا تھا،یو بی جی کے قائدین ایس ایم منیر اور افتخار علی ملک کی کوششوں سے اپنے انتخاب کے بعد وہ اپنے عہدے کی مدت 8ماہ گزار چکے ہیں لیکن اپنی قیادت سے پوچھے بغیرانہوں نے سینیٹ چیئرمین کوخط لکھ کر صدارتی منصب کی معیاد تین سال کرانے کا مطالبہ کیا جس کی وجہ سے ملک بھرکی بزنس کمیونٹی کے نمائندے،فیڈریشن میں برسراقتداریونائٹیڈ بزنس گروپ کی قیادت اور اپوزیشن نے شدید مخالفت کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ملک بھر کے تقریباً تمام ہی چیمبرز،اورایسوسی ایشنز وٹریڈ باڈیز نے انجینئرداروخان کے اس عمل کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مخالفت کی ہے اور انکے اس عمل کو نقب زنی قرار دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف پی سی سی آئی کے صدر کے مطالبے پر غور وخوص کیلئے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرمرزامحمدآفریدی کی قیادت میں 11سینیٹروں سمیت پندرہ افراد پر مشتمل کامرس کی قائمہ کمیٹی نی11ستمبر کو ملک کی5بڑے چیمبرز آف کامرس کراچی،اسلام آباد،لاہور،کوئٹہ اور پشاور سمیت ایف پی سی سی آئی کواسلام آباد طلب کرلیا ہے جبکہ وزارت تجارت کے ماتحت ادارے ڈائریکٹرجنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز کے نمائندے بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے ۔

یونائٹیڈ بزنس گروپ کے سیکریٹری جنرل زبیرطفیل نے بھی ملک بھر کی تمام ٹریڈ باڈیز کو ایک خط تحریرکیا ہے جس میں انہوں نے انجینئرداروخان کے عزائم سے آگاہ کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ سیکریٹری سینیٹ کمیٹی کوفیڈریشن کے عہدے کی معیاد تین سال نہ کرنے کے حوالے سے اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کے صدر انجینئرداروخان اچکزئی کی تین سال تک صدر رہنے کی خواہش کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے کیونکہ ایکٹ میں تر میم کرانا ہوگی اوریہ ایک طویل ترین پروسس ہے جسے اپنی مرضی کے مطابق کوئی حل نہیں کرسکے گا ،ایکٹ میں ترمیم قومی اسمبلی میں منظوری سے حل ہوسکے گی لیکن اس سے پہلے کئی ادارے اس بارے میں اپنی رپورٹ بنائیں گے اور جب تک موجودہ صدر کے عہدے کی معیاد پوری ہوجائے گی۔

ایف پی سی سی آئی میں اپوزیشن گروپ نے بھی ایف پی سی سی آئی کے صدر دارو خان اچکزئی کی جانب سے کاروباری برادری کے استحصال کی کوشش ناکام بنا نے کی ٹھان لی ہے اور انکا کہنا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کے صدرکے عہدے کی معیاد ایک سال سے بڑھا کرتین سال کرنے کی سازش کا مقصد ڈکٹیٹر شپ کا فروغ ہے ،اس سے نہ صرف ملک بھر کی کاروباری برادری کی حق تلفی ہو گی بلکہ چھوٹے صوبے جنھیں سات سال بعد باری ملتی ہے انھیں نئے فارمولے کے تحت اکیس سال انتظار کرنا ہو گا جس سے احساس محرومی بڑھے گا۔

دوسری جانب ملک بھر کی بزنس کمیونٹی کا یہ ماننا ہے کہ رواں سال ایف پی سی سی آئی میں کسی بھی عہدیدار کی کارکردگی فخر کے ساتھ بیان کرنے لائق نہیں ہے بلکہ موجودہ صدر اور سینئرنائب صدرکے مابین اختیارات کی جنگ نے ایف پی سی سی آئی کے وقار کونقصان پہنچایا ہے۔