لیبیا کے غریان شہر کے نزدیک غوط الریح پرجنرل حفتر کی فوج کا کنٹرول

لیبی فوج کا الزاویہ شہر میں حکومتی فورسز کے زیر انتظام ڈرون طیاروں کے کنٹرول روم اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈپوؤں کا انکشاف

جمعرات ستمبر 15:45

طرابلس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2019ء) جنرل حفتر کی زیر قیادت لیبیا کی باغی فوج نے غریان شہر کے نزدیک غوط الریح کے علاقے پر دوبارہ سے کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس سے قبل وفاق کی حکومتی فورسز نے چند گھنٹوں کے لیے غوط الریح پر قبضہ کر لیا تھا۔ادھر لیبیا کی فوج نے الزاویہ شہر میں وفاق کی حکومتی فورسز کے زیر انتطام ڈرون طیاروں کے کنٹرول روم اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈپوؤں کا انکشاف کیا ہے۔

الزاویہ شہر لیبیا کے مغرب میں دارالحکومت طرابلس سے کم از کم 50 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لیبیا کی فوج کے میڈیا سینٹر نے جاری کیے گئے ایک وڈیو کلپ میں بتایا کہ اس نے الزاویہ شہر میں واقع ایک آئل ریفائنری کے اندر سے ترکی کے ڈرون جاسوس طیاروں کو لیبیا کی فوج کے ٹھکانوں کی جانب اڑان بھرتے ہوئے دیکھا۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ شہر میں ابو صرّہ کے علاقے میں بھاری ہتھیاروں اور بکتربند گاڑیوں کے گودام اور رابطوں کے آلات اور ساز و سامان کا بھی پتہ چلایا گیا ہے۔ لیبیا کی فوج نے علاقے میں داخل ہو کر ان تمام چیزوں کو قبضے میں لے لیا۔یاد رہے کہ لیبیا کی فوج ترکی پر مسلسل یہ الزام عائد کرتی ہے کہ وہ لیبیا کے مغربی علاقے میں وفاق کی حکومت کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں اور دہشت گرد جماعتوں کے مفاد میں معرکوں کی قیادت کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں ترکی ہتھیاروں، عسکری ساز و سامان اور ڈرون طیاروں کے ذریعے لوجسٹک سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ سلامتی کونسل نے لیبیا میں کسی بھی فریق کو مسلح کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔الزاویہ شہر پر مسلح عناصر کی ایک بڑی تعداد قابض ہے۔ ان میں القاعدہ تنظیم کے اہم رکن شعبان ہدیہ عٴْرف ابو عبیدہ الزاوی کا بریگیڈ نمایاں ترین ہے۔ کئی ماہ قبل لیبیا کے اٹارنی جنرل کی جانب سے الزاوی کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا جا چکا ہے۔