اُم القوین میں تیراکی سے ناواقف افغانی نوجوان نے ڈوبتے شخص کو بچا لیا

ولی سیف محمد کی جانب سے ایک شخص کی خاطر اپنے جان کو خطرے میں ڈالنے پر بہت زیادہ تعریف کی جا رہی ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ ستمبر 12:11

اُم القوین میں تیراکی سے ناواقف افغانی نوجوان نے ڈوبتے شخص کو بچا لیا
اُم القوین(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،21ستمبر 2019ء) اماراتی ریاست اُم القوین کے ساحل سمندر پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ ولی محمد سیف نامی 35 سالہ نوجوان کا تعلق افغانستان سے ہے جو روزگار کی غرض سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے۔ وہ گزشتہ جمعہ کے روز اپنے بھائی اور ایک دوست کے ساتھ تفریح کی غرض سے ساحل پر گیا۔

اچانک اُس نے کسی شخص کی مدد کے لیے پُکارنے کی آوازیں سُنیں۔ سیف اور اس کے ساتھیوں نے سمندر کی طرف دیکھا تو ان سے کافی فاصلے پر ایک شخص ڈُوبتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اگرچہ سیف کو تیرنا نہیں آتا تھا، تاہم اس نے انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت نتائج کی پرواہ کیے بغیر سمندر کی جانب چھلانگ لگا دی اور ڈُوبتے ہوئے اماراتی شخص کے پاس پہنچ کر اس کی جانب اپنا ہاتھ بڑھا دیا اور تقریباً پچاس میٹر تک اسے کھینچتا ہوا ساحل کے قریب لے آیا۔

(جاری ہے)

اس دوران اس کی کئی بار ہمت ٹوٹی ، سمندر کی کئی لہروں میں خود بھی بار بار ڈوبتے ہوئے بچا۔ ایک موقع تو ایسا آیا جب اسے لگا وہ اماراتی نوجوان کو بچاتے بچاتے خود بھی ڈُوب جائے گا۔ مگر اللہ کے بھروسے اس نے تیراکی سے ناواقف ہونے کے باوجود بھی یہ انوکھا کام کر دکھایا۔ سیف آخر کار اسے ساحل پر کھینچ لانے میں کامیاب ہو گیا۔ مگر پانی میں غوطے کھانے کے باعث اس کی حالت بہت زیادہ بگڑ گئی تھی۔

اسی دوران ساحل پر موجود ایک شخص نے پولیس ایمرجنسی روم میں اطلاع کر دی۔ چند منٹوں میں ہی پولیس پٹرول اور ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی۔ جنہوں نے اماراتی نوجوان ابراہیم کو فوری طبی امداد دی اور اس کی سنگین حالت کے پیش نظر اسے فوراً اقریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔ جہاں تھوڑی دیر بعد اس کی حالت سنبھل گئی اور اس کی زندگی سمندر کی لہروں کی نذر ہونے سے بچا لی۔ سیف نے ایک شخص کی جان بچانے پر اللہ کا بہت بہت شکریہ ادا کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے اس ملک میں رہتے سات سال ہو گئے ہیں، مجھے یہاں پر محبت، احترام اور رواداری ہی مِلی ہے۔