خبردار! مرنے والوں کی تصاویر کھینچنا اور ویڈیو بنانا غیر قانونی ہے

قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دو سال قید کی سزا دی جائے گی

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ نومبر 06:42

خبردار! مرنے والوں کی تصاویر کھینچنا اور ویڈیو بنانا غیر قانونی ہے
نیٹ نیوز ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2019ء)   اس وقت انسانیت دم توڑتی دکھائی دیتی ہے کہ جب کوئی انتہائی اندوہناک واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ مرنے والوں کی مدد کرنے کی بجائے ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔یہ بے حسی کا ایک ایسا المیہ ہے جو ساری دنیا کے انسانوں میں جنم لے چکا ہے۔تاہم اب اس بے حسی کو کچلنے کے لیے جرمنی نے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے مرنے والوں کی تصاویر لینا غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

جرمنی میں حادثات میں ہلاک ہونیوالوں اور سر عام خواتین کی نازیبا تصاویر لینے کو قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا۔اس بل کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے۔جرمنی کی وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز ایک قانونی بل منظور کیا ہے جس کے تحت خواتین کی خفیہ طور پر نازیبا تصاویر لینے کے ساتھ ساتھ حادثات میں ہلاک ہونیوالے افراد کی تصاویر کھینچنے کے عمل کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

جرمن ویب سائٹ ڈی ڈبلیو وزیر انصاف کرسٹینے لامبریشٹ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ خواتین کی نامناسب تصاویر کھینچنا توہین آمیز اور خاتون کی نجی زندگی میں بے جا مداخلت ہے جبکہ ہمیں ہلاک شدگان کے اہلخانہ کو ان کے مر جانے والے عزیزوں کی تصویریں پھیلا کر مزید اذیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہئے۔رپورٹ کے مطابق نئے قوانین کے تحت اب ان جرائم میں ملوث افراد کو 2 برس قید کی سزا دی جا سکے گی۔

جرمنی میں خواتین کی خفیہ نازیبا تصاویر کیخلاف لڈوگس برگ سے تعلق رکھنے والی 2 خواتین ہانا سائیڈل اور ماری ساسنبرگ نے مہم کا آغاز کیا تھا، ساتھ ہی اس عمل کو جرم قرار دینے کیلئے ایک آن لائن پٹیشن بھی شروع کی جس پر کچھ ہی عرصے میں 90 ہزار سے زائد جرمن شہریوں نے دستخط کر دیئے تھے۔اب ان دو خواتین کی محنت رنگ لائی اور آن لائن پٹیشن کو مقبولیت کا درجہ سیتے ہوئے جرمنی میں قانونی شکل دے دی گئی۔اس حوالے سے جہاں جرمنی کے عوام بہت خوش ہیں وہاں اس مہم کو شروع کرنے والی دو خواتین بھی اپنی مہم پر نازاں ہیں۔

متعلقہ عنوان :