منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم کا مقابلہ کرنا تحریک انصاف کے حکومتی ایجنڈے کا اہم جزو ہے.عمران خان

ملک کی خدمت کے لیے اپنی تما م کوششیں بروئے کار لائیں گے‘ بین الاقوامی ادارے بھی ملکی معیشت میں آنے والی بہتری کے معترف ہیں. وزیراعظم کی گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر دسمبر 21:48

منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم کا مقابلہ کرنا تحریک انصاف کے حکومتی ایجنڈے ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔02 دسمبر ۔2019ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم کا مقابلہ کرنا تحریک انصاف کے حکومتی ایجنڈے کا اہم جزو ہے‘وزیراعظم عمران خان سے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاءنے ملاقات کی، اس موقع پر ملاقات میں اسپیشل اسسٹنٹ برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر بھی موجود تھے.

(جاری ہے)

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بدعنوانی، سائبر کرائم، معاشی جرم، امیگریشن سے متعلق جرائم ، منی لانڈرنگ اور و دیگر جرائم کا مقابلہ کرنا تحریک انصاف کے حکومتی ایجنڈے کا اہم جزو ہے، ملک کی خدمت کے لیے اپنی تما م کوششیں بروئے کار لائیں گے‘ وزیراعظم عمران خان سے حال ہی ترقی پانے والے وفاقی سیکرٹریوں نے ملاقات کی، وزیرِاعظم نے ترقی پانے والے افسران کو مبارکباد دی اور کہا کہ امید ہے ترقی پانے والے افسران اپنی نئی ذمہ داریاں نہایت فرض شناسی اور ملک و قوم کی خدمت کے بھرپورجذبے کے تحت ادا کریں گے.

وزیراعظم نے کہا کہ 60 کی دہائی میں گورننس کے لحاظ سے مثالی سمجھا جانے والا ہمارا ملک آج خطے میں دوسرے ممالک سے قدرے پیچھے رہ گیا جس کی مختلف وجوہات ہیں، پاکستان تاریخ کے اہم دوراہے پر کھڑا ہے، ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے جہاں سیاسی قیادت نے وژن دینا ہے وہاں بیورو کریسی نے اس وژن کو عملی جامہ پہنانا ہے، سیاسی قیادت اور بیوروکریسی نے ملک کے مستقبل کا تعین کرنا ہے، اس کے لئے نئی سوچ اور بہتر طرز حکومت (گڈگورننس) کی ضرورت ہے، ترقی پانے والے افسران اپنی ذمہ داریاں جہاد اور قومی فریضہ سمجھ کر ادا کریں.

عمران خان نے کہا کہ ماضی میں بیرون ملک پاکستانیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی گورننس کے مسائل کی وجہ سے حوصلہ شکنی ہوئی لیکن ہمیں اس ماحول کو بہتر کرنا ہے، حکومت کی کوششوں سے ملک میں معاشی استحکام ہے، گزشتہ 15 ماہ میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ہر شعبے میں دلچسپی کا اظہار اور ملکی معیشت و پالیسیوں پر اعتماد کیا ہے، بین الاقوامی ادارے بھی ملکی معیشت میں آنے والی بہتری کے معترف ہیں، اس استحکام کو مزید تقویت دینے کے لئے ضروری ہے کہ بیوروکریسی طرز حکومت اور عوام کی فلاح و بہبود کے ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے.