نجی ٹی وی چینل نے صحافتی اقدار کا جنازہ نکال دیا

برطانوی وزیراعظم کے گرل فرینڈ کے ہمراہ دورے کو پاکستانی وزیراعظم سے منسوب کر کے رپورٹ کیا،پی ٹی آئی سمیت صارفین کا سخت ردِ عمل

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ فروری 12:20

نجی ٹی وی چینل نے صحافتی اقدار کا جنازہ نکال دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 فروری 2020ء) میڈیا عام طور پر اس بات کی وجہ سے بدنام ہے کہ یہاں پر معروف شخصیات خصوصاََ سیاستدانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرکے اُن کی عزت کو اچھالا جاتا ہے۔عمران خان کا شمار اُن سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہیں میڈیا کی وجہ سے ہی خاصی شہرت ملی یہاں تک کہ وہ وزیراعظم بن گئے،لیکن یہی میڈیا ان کی کردار کشی میں بھی آگے آگے ہوتا ہے جس کا شکوہ خود وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز صحافیوں سے ملاقات میں بھی کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا میری ذات پر حملہ کرے تو کوئی مسئلہ نہیں۔میڈیا جب ملک پر حملہ کرتا ہے تو پھر مسئلہ ہوتا ہے۔لیکن ملک کے سربراہ پر بے جا تنقید بھی تو ملک پر تنقید تصور کی جاتی ہے۔بعض اوقات ٹی وی چینلز رپورٹنگ کرتے ہوئے اخلاقی حدود پار کر دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

اسی طرح ایک نجی ٹی وی چینل نے بھی برطانوی وزیراعظم کی آڑ میں پاکستان وزیراعظم کی ذات کو نشانہ بنا کر صحافتی اقدار کا جنازہ نکال دیا۔

24 نیوز نے گذشتہ روز خبر دی کہ وزیراعظم نے اپنی گرل فرینڈ کے ہمراہ دورہ کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔جب کہ ان کا یہ دورہ کاروباری شخصیت نے سپانسر کیا۔یہاں پر یہ بات بھی واضح ہو کہ وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ ماہ ملائیشیا کا دورہ کیا جس کے بارے میں اطلاعات تھی کہ یہ دورہ وزیراعظم کے قریبی دوستوں نے سپانسر کیا۔لہذا برطانوی وزیراعظم کی خبر کو اس طرح سے رپورٹ کیا گیا کہ گویا وہ خبر عمران خان سے متعلق ہو۔

دو منٹ کے کلپ میں اینکر نے تو نہ’برطانوی وزیراعظم ‘ کہا اور نہ ہی وزیراعظم کا نام لیا۔اینکر نے اپنی رپورٹ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی وزیراعظم اپنی گرل فرینڈ کے ہمراہ کیے گئے دورے کی وجہ سے الزامات کی زد میں ہیں۔انہوں نے اپنی گرل فرینڈ کے ہمراہ پُرتعیش دورہ کیا۔کارباری شخصیت نے وزیراعظم اور اُن کی گرل فرینڈ کے دورے کے اخراجات اٹھائے اور وزیراعظم نے کاروباری مافادات حاصل کیے۔

صارفین نے اس کلپ کو دکھتے ہوئے شدید ردِعمل دیا ہے،تحریک انصاف کے ڈیجیٹل میڈیا کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ اب ہم جب 24 نیوز پر تنقید کریں گے۔ان سے میڈیا کی اخلاقیات سے متعلق سوال پوچھیں گے تو یہ چلانا شروع کر دیں گے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم ہم پر اٹیک کر رہی ہے۔آپ جو مرضی کہیں لیکن ہم آپکی گٹر جرنلزم ایکسپوز کرتے رہیں گے۔
واضح رہے کہ اسی ٹی وی چینل نے کچھ عرصہ قبل وزیراعظم کے مسعتفیٰ ہونے کی خبر کو بھی عمران خان سے منسوب کر کے سنسنی خیز رپورٹ جاری کی تھی۔